مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ . باب: علم کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عمرو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَلِيلُ الْعِلْمِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ فِقْهًا إِذَا عَبَدَ اللَّهَ ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا إِذَا أُعْجِبَ بِرَأْيِهِ ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ : مُؤْمِنٌ وَجَاهِلٌ ، فَلَا تُؤْذُوا الْمُؤْمِنَ ، وَلَا تُجَاوِرُوا الْجَاهِلَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَسِيدٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُشْتَغَلُ بِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تھوڑا علم ، زیادہ عبادت سے بہتر ہے ، آدمی کے سمجھدار ( یا عالم ) ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور آدمی کے جاہل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی رائے کے حوالے سے خود پسندی کا شکار ہو ، لوگ صرف دو طرح کے ہوتے ہیں : مؤمن اور جاہل ، تو تم لوگ مؤمن کو اذیت نہ پہنچاؤ اور جاہل کے ساتھ نہ رہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن اسید ہے ، امام ابوحاتم فرماتے ہیں : اس کے ساتھ مشغول نہیں ہوا جائے گا ۔