مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ . باب: علم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 477
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عمرو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَلِيلُ الْعِلْمِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ فِقْهًا إِذَا عَبَدَ اللَّهَ ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا إِذَا أُعْجِبَ بِرَأْيِهِ ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ : مُؤْمِنٌ وَجَاهِلٌ ، فَلَا تُؤْذُوا الْمُؤْمِنَ ، وَلَا تُجَاوِرُوا الْجَاهِلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَسِيدٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُشْتَغَلُ بِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تھوڑا علم ، زیادہ عبادت سے بہتر ہے ، آدمی کے سمجھدار ( یا عالم ) ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور آدمی کے جاہل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی رائے کے حوالے سے خود پسندی کا شکار ہو ، تم لوگ مؤمن کو اذیت نہ پہنچاؤ اور جاہل کے ساتھ نہ رہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن اسید ہے ، امام ابوحاتم فرماتے ہیں : اس کے ساتھ مشغول نہیں ہوا جائے گا ۔