مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ فِيهَا ، ثُمَّ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " فَقَالَ : أَخْرَجَنِي الْجُوعُ ، قَالَ : " وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ " . ثُمَّ خَرَجَ عُمَرُ فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكَ يَا عُمَرُ ؟ " قَالَ : أَخْرَجَنِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ الْجُوعُ . ثُمَّ سَارَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ " فَانْطَلَقُوا ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَتْ لَهُمُ امْرَأَتُهُ : إِنَّهُ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ ، فَدُورُوا إِلَى الْحَائِطِ ، فَدَارُوا إِلَى الْحَائِطِ ، فَفَتَحَتْ لَهُمْ بَابَ الْحَائِطِ . فَجاَءَ أَبُو الْهَيْثَمِ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : تَدْرِي مَنْ عِنْدَكَ ؟ فَقَالَ : لَا ، فَقَالَتْ عِنْدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ فَعَلَّقَ قِرْبَتَهُ عَلَى نَخْلَةٍ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ حَيَّا وَرَحَّبَ ، ثُمَّ أَتَى مِخْرَفًا فَاخْتَرَفَ لَهُمْ رُطَبًا ، فَأَتاَهُمْ بِهِ فَصَبَّهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ . ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ أَهْوَى إِلَى غُنَيْمَةٍ لَهُ فِي نَاحِيَةِ الْحَائِطِ لِيَذْبَحَ لَهُمْ مِنْهَا شَاةً ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَّا ذَاتُ دَرٍّ فَلَا " فَأَخَذَ شَاةً فَذَبَحَهَا وَسَلَخَهَا وَقَطَّعَهَا أَعْضَاءً ثُمَّ طَبَخَهَا بِالْمَاءَ وَالْمِلْحِ ، ثُمَّ أَتَى امْرَأَتَهُ فَسَأَلَهَا ، هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ ، كُنْتُ أُؤَخِّرُهُ ، فَطَحَنَاهُ بَيْنَهُمَا فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ ، فَكَسَرَهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَأَكْفَأَ عَلَيْهِ ذَلَكَ اللَّحْمَ الَّذِي طَبَخَهُ ، ثُمَّ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَكَلُوا ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ : " يَا أَبَا الْهَيْثَمِ ، أَمَا لَكَ مِنْ خَادِمٍ ؟ " قَالَ لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا لَنَا خَادِمٌ ، قَالَ : " إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ جَاءَنَا سَبْيٌ فَأْتِنَا نُخْدِمْكَ " . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غُلَامَانِ - أَوْ قَالَ وَصِيفَانِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا الْهَيْثَمِ اخْتَرْ مِنْهُمَا " أَوْ قَالَ : " تَخَايَرْ مِنْهُمَا " قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي . فَاحْتَاطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَقَالَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ خُذْ هَذَا " فَلَمَّا وَلَّى بِهِ أَبُو الْهَيْثَمِ قَالَ : " يَا أَبَا الْهَيْثَمِ أَحْسِنْ إِلَيْهِ فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي " قَالَ : نَعَمْ ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى أَهْلِهِ ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا ، وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنَا خَادِمًا يَخْدُمُنَا وَيُعِينُنَا عَلَى ضَيْعَتِنَا ، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ : نَعَمْ ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، خَادِمٌ أَخْدَمَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، تُرِيدُ أَنْ تُحْرِمَنَاهُ ، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِلْغُلَامِ : أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتَ تُقِيمُ مَعَنَا نُطْعِمُكَ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُكَ مِمَّا نَلْبَسُ ، وَلَا نُكَلِّفُكَ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا تُطِيقُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی گھڑی میں باہر تشریف لے آئے جس میں آپ عام طور پر باہر نہیں آتے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم باہر آئے ہو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف روانہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر طرف چلو ! یہ حضرات گئے ، جب یہ حضرات ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے تو ان کی اہلیہ نے ان حضرات کو بتایا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں ، آپ لوگ باغ کی طرف چلے جائیں ، یہ حضرات باغ کی طرف چلے گئے ، اس خاتون نے ان کے لیے باغ کا دروازہ کھول دیا ، پھر سیدنا ابوالہیثم بھی آ گئے ، اُن کی اہلیہ نے ان سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں آپ کے ہاں کون آیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب تشریف لائے ہیں ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کے پاس آئے انہوں نے مشکیزہ کجھور کے درخت کے ساتھ لٹکایا ، پھر ان حضرات کے پاس آ کر انہیں سلام کیا اور انہیں خوش آمدید کہا: ، پھر وہ گئے اور ان کے لیے تازہ کھجوریں چن کر لائے اور وہ لا کر ان کے آگے رکھ دیں ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ باغ کے کونے میں موجود اپنی بکریوں کی طرف بڑھے تاکہ ان میں سے کوئی بکری ذبح کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : دودھ دینے والی بکری کو ( ذبح ) نہ کرنا ، انہوں نے ایک بکری لی ، اُسے ذبح کیا اس کی کھال اتاری ، اس کے اعضاء کاٹے ، پھر اسے پانی اور نمک کے ہمراہ پکایا ، پھر وہ اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! ہمارے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، جو میں نے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے ، ان دونوں نے ان جو کو پیس لیا ، پھر اس خاتون نے آٹا گوندھا اور اس کی روٹی پکائی ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے ان روٹیوں کے ٹکڑے کیے ، ان پر وہ گوشت ڈالا جو انہوں نے پکایا تھا ، پھر وہ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس لے آئے ، اُن حضرات نے اسے کھا لیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے ابوالہیثم ! کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ہمارے پاس خادم نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس قیدی آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ، ہم تمہیں کوئی خدمتگار دے دیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو غلام موجود تھے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاط کی ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی آستینیں چڑھا لیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ مؤتمن ہوتا ہے ، تم اس کو لے لو ، جب سیدنا ابوالہیثم اس غلام کو ساتھ لے کر واپس جانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھائیں گے اور وہی پہنائیں گے جو ہم خود پہنیں گے اور اسے ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی اس میں طاقت نہ ہو ۔ پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گھر چلے گئے ، ان کے گھر والے اس غلام کی وجہ سے بہت خوش ہوئے انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں ایسا خدمتگار عطا کیا ہے جو ہماری خدمت کرے گا اور ہمارے کاموں میں ہماری مدد کرے گا ، تو سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا: ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھاتے ہیں اور اس کو وہی پہننے کے لئے دیں گے جو ہم خود پہنتے ہیں اور اسے کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی یہ طاقت نہ رکھتا ہو ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا: سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خدمتگار دیا ہے اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے محروم کر دیں ؟ سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا: تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے آزاد ہو ، اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ رہو ، ہم جو خود کھائیں گے اس میں سے تمہیں کھلائیں گے ، جو خود پہنیں گے اس میں سے تمہیں پہننے کے لئے دیں گے ، اور تمہیں کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی تم میں طاقت نہ ہو اور اگر تم چاہو تو جہاں چاہو چلے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔