مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَالَ : لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ ، يَا بُنَيَّ ، مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ ، فَنُقَسِّمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ ؟ قَالَ : لَا تَقُلْ ذَاكَ يَا بُنَيَّ ، فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ،وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَكَانَ ثِقَةً . ¤سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا ( سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے راوی کو بتایا : ) اے میرے بیٹے ! اس وقت ہمارے پاس زاد سفر کے طور پر صرف کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا تھا ہم اسے ایک ایک مٹھی تقسیم کر لیتے تھے ، یہاں تک کہ وہ وقت بھی آ گیا کہ ہمارے حصے میں ایک ایک کھجور آتی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے ابا جان ! ایک کھجور کے ساتھ آپ کا گزارا کیسے ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم یہ بات نہ کرو ، بعد میں جب ہمیں وہ بھی نہیں ملتی تھی ، تو ہمیں اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور وہ ثقہ ہے ۔