حدیث نمبر: 18266
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ قَالَ : أَقَمْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً ، فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدُ حُجْرَةِ عَائِشَةَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبُرُدُ الْمَتَعَتِّقَةُ ، وَإِنَّهُ لَتَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لِيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّ بِهِ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ ، ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سال مقیم رہا ، ایک دن انہوں نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ، انہوں نے فرمایا : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہمارے پاس مناسب کپڑے نہیں ہوتے تھے ، صرف پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی اور ہم پر کئی دن ایسے گزر جاتے تھے کہ کھانے کے لیے اتنا نہیں ملتا تھا جو پشت کو سیدھا رکھ سکے ، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص پتھر لے کر اسے اپنے پیٹ پر کپڑے کے ذریعے باندھ لیتا تھا تاکہ اس کے ذریعے اپنی پشت کو قائم رکھ سکے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (324/2)»