حدیث نمبر: 18263
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ ، وَأَنَّ عُمَرَ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمَا وَأَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ : أَنَّهُ لَمْ يُخْرِجْهُمَا إِلَّا الْجُوعُ . فَقَالَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ " . - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي الْمَنْزِلِ ; ذَهَبَ يَسْتَسْقِي ، فَرَحَّبَتِ الْمَرْأَةُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِصَاحِبَيْهِ ، وَبَسَطَتْ لَهُمْ شَيْئًا فَجَلَسُوا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ انْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ ؟ " . قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ بِقِرْبَةٍ فِيهَا مَاءٌ ، فَانْطَلَقَ فَعَلَّقَهَا ، وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَ لَهُمْ شَاةً ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ ذَلِكَ ، فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَجَاءَ بِكَبَائِسَ مِنَ النَّخْلِ ; فَأَكَلُوا مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ ، وَالْبُسْرِ ، وَالرُّطَبِ ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَإِمَّا عُمَرُ - : هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي نُسْأَلُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤْمِنُ لَا يُثَرَّبُ عَلَى شَيْءٍ أَصَابَهُ فِي الدُّنْيَا ، إِنَّمَا يُثَرَّبُ عَلَى الْكَافِرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر تشریف لائے ، وہ صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے وہ بھی صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لائے ، ان دونوں نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر چلو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، جن کا نام سیدنا ابوالہیثم بن تیہان تھا ، وہ گھر میں نہیں تھے ، وہ پانی لینے کے لیے گئے ہوئے تھے ، اُن کی اہلیہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو خوش آمدید کہا: اور ان کے لئے کوئی چیز بچھا دی ، یہ حضرات اس پر تشریف فرما ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : ابوالہیثم کہاں گیا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد وہ صاحب مشکیزہ لے کر آ گئے ، جس میں پانی موجود تھا ، وہ گئے ، انہوں نے مشکیزے کو لٹکایا ، انہوں نے ان حضرات کے لئے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کر لیا ، پھر وہ کھجوروں کے خوشے لے آئے ، اُن حضرات نے گوشت کھایا مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، پانی پیا ، پھر ان دونوں صاحبان ( یعنی سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ) میں سے کسی ایک نے دریافت کیا : کیا یہ ان نعمتوں میں سے ہیں ؟ جن کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن دنیا کی جو بھی چیز استعمال کرے گا اُس کی وجہ سے اس پر ملامت نہیں ہو گی ، کافر پر ملامت ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10496)»