حدیث نمبر: 18262
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَ : فَاتَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ; فَجَعَلْتُ أَتَقَلَّبُ لَا يَأْتِينِي النَّوْمُ ، فَقُلْتُ : لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي ، فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ اسْتَنَدْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ ، فَدَخَلَ عُمَرُ ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْكَرَنِي ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو بَكْرٍ . فَقَالَ : مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! قُلْتُ : الْجُوعُ . قَالَ : وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى سَوَادَنَا أَنْكَرَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَانِ ؟ فَبَدَرَنِي عُمَرُ فَقَالَ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا عُمَرُ فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! " . فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ . فَقَالَ : " وَأَنَا مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا ، انْطَلِقَا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ " . فَأَتَيْنَا الْبَابَ ، فَاسْتَأْذَنَّا فَخَرَجَتِ الْمَرْأَةُ ، قَالَ : " أَيْنَ فَلَانٌ ؟ " . قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ مِنْ حُشِّ بَنِي حَارِثَةَ ، فَفَتَحَتِ الْبَابَ ، فَدَخَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ قَدْ مَلَأَ قِرْبَةً عَلَى ظَهْرِهِ ، عَلَّقَهَا عَلَى كِرْنَفَةٍ مِنْ كَرَانِيفِ النَّخْلِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، مَا زَارَ النَّاسَ خَيْرٌ مِنْ زَوْرٍ زَارُونِي اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ جَاءَ بِعِذْقِ بُسْرٍ ، فَجَعَلْنَا نَنْتَقِي فِي الْقَمَرِ ، وَنَأْكُلُ ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ وَجَالَ فِي الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ ، أَوْ ذَاتَ الدَّرِّ " . فَذَبَحَ لَنَا شَاةً ، وَسَلَخَهَا ، وَقَطَّعَهَا فِي الْقِدْرِ ، وَأَمَرَ الْمَرْأَةَ فَعَجَنَتْ وَخَبَزَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِثَرِيدَةٍ وَلَحْمٍ فَأَكَلْنَا . ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ تَخَفَّقَتْهَا الرِّيحُ فَبَرَدَتْ ، فَسَقَانَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ ، ثُمَّ لَمْ نَرْجِعْ حَتَّى أَصَبْنَا هَذَا ، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ثُمَّ قَالَ لِلْوَاقِعِيِّ : " أَمَا لَكَ خَادِمٌ يَكْفِيكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَانْظُرْ أَوَّلَ سَبْيٍ يَأْتِينِي فَائْتِنِي آمُرُ لَكَ بِخَادِمٍ " . ¤ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَتَاهُ سَبْيٌ ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : مَوْعِدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي ، قَالَ : " قُمْ ، فَاخْتَرْ مِنْهُمْ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي ، قَالَ : " خُذْ هَذَا الْغُلَامَ ، وَأَحْسِنْ إِلَيْهِ " . فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا قَالَ لَهُ ، فَقَالَتْ : فَقَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ ; فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَتْ : أَنْ تُعْتِقَهُ . قَالَ : فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ فِي ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : ” ایک رات میں نے عشاء کی نماز ( باجماعت ) ادا نہیں کی ، میں کروٹیں بدلتا رہا لیکن مجھے نیند نہیں آئی ، میں نے سوچا اگر میں نکل کر مسجد چلا جاؤں ، وہاں جو میرے نصیب میں ہو وہ نماز ادا کروں ) تو یہ مناسب ہو گا ) میں نے ایسا ہی کیا اور پھر مسجد کے کونے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو وہ حیران ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : ابوبکر ، انہوں نے کہا: آپ اس وقت گھر سے باہر کیوں آئے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : بھوک کی وجہ سے ، انہوں نے کہا: میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں جس کی وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، جب آپ نے ہمارے ہیولے دیکھے تو آپ حیران ہوئے ، آپ نے دریافت کیا : یہ دو افراد کون ہیں ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہل کی اور بولے : یہ سیدنا ابوبکر ہیں اور یہ عمر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں اس وقت گھر سے باہر کیوں آئے ہو ؟ ہم نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم دونوں باہر آئے ہو ، تم دونوں ہمارے ساتھ واقفی کی طرف چلو ۔ “ ہم ( ان صاحب کے ) دروازے پر آئے ، ہم نے اجازت طلب کی ، خاتون باہر آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : فلاں کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ بنو حارثہ کے محلے سے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، اس خاتون نے دروازہ کھول دیا ، ہم اندر آ گئے ، تھوڑی دیر بعد وہ صاحب بھی آ گئے ، انہوں نے پانی کا بھرا ہوا مشکیزہ اپنی پشت پر لادا ہوا تھا ، انہوں نے وہ مشکیزہ کھجور کے درخت کی ایک شاخ سے لٹکایا ، پھر وہ ہماری طرف آئے اور بولے : خوش آمدید ! کسی بھی شخص کے گھر میں میرے مہمانوں سے بہتر مہمان نہیں آئے ہوں گے ، پھر وہ تازہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے آیا ہم چاند کی روشنی میں کھجوریں چن کر کھانے لگے پھر اس نے چھری پکڑی اور بکریوں کے درمیان گھومنے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والی بکری سے بچ کے رہنا ( یعنی اُسے ذبح نہ کرنا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس نے ایک بکری ہمارے لئے ذبح کی ، اس کی کھال اتاری اسے ہنڈیا میں پکایا ، اس نے عورت کو حکم دیا اس عورت نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی ، پھر وہ شخص ثرید اور گوشت لے کر آیا ، ہم نے کھایا پھر وہ اٹھ کر مشکیزہ کی طرف گیا ، ہوا کی وجہ سے اُس کا پانی ٹھنڈا ہو چکا تھا ، اس نے ہمیں وہ پلایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں باہر نکالا ، ہم صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے لیکن واپس جانے سے پہلے ہمیں یہ چیزیں نصیب ہو گئیں ، یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واقفی ( یعنی میزبان شخص ) سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ جو تمہارے یہ کام کر سکے ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دھیان رکھنا ! ہمارے پاس اب سب سے پہلے جو قیدی آئیں گے تو تم میرے پاس آ جانا ، میں تمہیں کوئی خادم دینے کا حکم دے دوں گا ۔ تھوڑے عرصے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آئے ، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اُس وعدے کی وجہ سے جو آپ نے میرے ساتھ کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھو اور ان میں سے کسی کو منتخب کر لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے کسی کو اختیار کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس لڑکے کو لے لو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، وہ صاحب اپنی بیوی کے پاس آئے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں بتایا اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا ، اس کے بارے میں بتایا ، تو اس خاتون نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اس کے ساتھ بھلائی کریں ، تو آپ اس کے ساتھ بھلائی کر لیں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا بھلائی کروں ؟ اس خاتون نے کہا: آپ اسے آزاد کر دیں ، ان صاحب نے کہا: پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو دودھ دینے والی بکری کو ذبح کرنے ( سے روکنے سے متعلق ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اسے اُس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ بن موہب ہے ، جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، لیکن اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6181) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (251/19)»