مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ فَسَمِعَ بِذَاكَ عَمَرُ ، فَخَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! فَقَالَ : أَخْرَجَنِي وَاللَّهِ ، مَا أَجِدُ مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ فِي بَطْنِي ، فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ ، مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ . ¤ فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " . فَقَالَا : أَخْرَجَنَا وَاللَّهِ ، مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مَنْ حَاقِّ الْجُوعِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ " . فَقَامُوا فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا أَوْ لَبَنًا ، فَأَبْطَأَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ فَأَطْعَمَهُ أَهْلَهُ ، وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ ، فَلَمَّا أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَتْ : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَنْ مَعَهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ ؟ " . قَالَتْ : يَأْتِيكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ السَّاعَةَ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَصُرَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ ، وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَدْرَكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَنْ مَعَهُ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيئُنِي فِيهِ فَرَدَّهُ . فَجَاءَ إِلَى عِذْقِ النَّخْلَةِ فَقَطَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَدْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ رُطَبِهِ ، وَبُسْرِهِ ، وَتَمْرِهِ ، وَتَذْنُوبِهِ ، وَلَأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا . قَالَ : " إِنْ ذَبَحْتَ فَلَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ ذَرٍّ " . فَأَخَذَ عَنَاقًا ، أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : اخْتَبِزِي ، وَأَطْبُخُ أَنَا ، فَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخُبْزِ . فَعَمَدَ إِلَى نِصْفِ الْجَدْيِ فَطَبَخَهُ ، وَشَوَى نِصْفَهُ ، فَلَمَّا أَدْرَكَ الطَّعَامُ ، وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْجَدْيِ فَوَضَعَهُ عَلَى رَغِيفٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَبْلِغْ بِهَذَا إِلَى فَاطِمَةَ ; فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ " . فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُبْزٌ ، وَلَحْمٌ ، وَبُسْرٌ ،وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ " . وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا ، وَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ ، فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، وَبَرَكَةِ اللَّهِ ، فِإِذَا شَبِعْتُمْ فَقُولُوا الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا وَأَزْوَانَا وَأَنْعَمَ وَأَفْضَلَ ، فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَذَا " . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْتِي أَحَدٌ إِلَيْهِ مَعْرُوفًا إِلَّا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ ، فَقَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ : " ائْتِنَا غَدًا " . فَلَمْ يَسْمَعْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ ، فَلَمَّا أَتَاهُ أَعْطَاهُ وَلِيدَةً ، فَقَالَ : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، اسْتَوْصِ بِهَا خَيْرًا ; فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا " . فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ قَالَ : مَا أَجِدُ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرًا مِنْ أَنْ أُعْتِقَهَا ، فَأَعْتَقَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دن چڑھے کے وقت باہر تشریف لائے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سنا تو وہ بھی باہر آ گئے ، وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوبکر ! آپ اس وقت میں کیوں باہر آئے ہیں ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس وجہ سے باہر آیا ہوں کہ مجھے اپنے پیٹ میں شدید ترین بھوک محسوس ہو رہی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بولے : میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں ، ابھی یہ دونوں حضرات اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان دونوں کے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں اس وقت میں کیوں باہر آئے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! ہم اپنے پیٹ میں محسوس ہونے والی شدید ترین بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میرا بھی یہی معاملہ ہے کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی اور چیز باہر نہیں لائی ، پھر یہ حضرات اُٹھے اور چلتے ہوئے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانے یا شاید دودھ کے بارے میں ذکر کیا تھا ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے میں تاخیر ہو گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مخصوص وقت پر تشریف نہیں لائے تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ کھانا اپنے گھر والوں کو کھلایا اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلے گئے تاکہ وہاں کام کاج کریں ، جب یہ حضرات ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچے تو ان کی اہلیہ باہر آئیں اور بولیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھ والے افراد کو خوش آمدید ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : ابوایوب کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! وہ ابھی آپ کے پاس آ جاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے ، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا وہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ، وہ دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھ والے افراد کو خوش آمدید ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس وقت میں تشریف نہیں لاتے ہیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لے گئے ، پھر وہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے اور اسے کاٹا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اس کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس میں سے مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، اس کے ہمراہ میں آپ کے لیے کوئی جانور ذبح کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے ذبح کرنا ہے تو کسی دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا ، تو انہوں نے بکری کے ایک سال کے بچے کو ذبح کیا ، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : تم روٹی پکاؤ ، میں سالن تیار کرتا ہوں ، کیونکہ تم روٹی زیادہ بہتر پکا سکتی ہو ، پھر انہوں نے اس جانور کے بچے کے نصف حصے کو لیا اور اسے پکایا اور نصف حصے کو بھون لیا ، جب کھانا تیار ہوا تو وہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے آگے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کچھ ) گوشت لیا اور اسے روٹی پر رکھا اور پھر یہ فرمایا : اے ابوایوب ! یہ فاطمہ تک پہنچا دینا کیونکہ اسے کئی دن سے اس طرح کا کھانا نہیں ملا ، جب ان حضرات نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روٹی ، گوشت بسر ، تمر ، رطب ( یعنی مختلف قسم کی کھجوریں ) پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ کے ساتھیوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں اس طرح کی چیز نصیب ہو اور تم اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ ، تو یہ پڑھ لو : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ( عطا کی ہوئی ) برکت کے ہمراہ “ اور جب تم سیر ہو جاؤ تو یہ پڑھو : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں سیر کر دیا اور ہمیں سیراب کر دیا اور نعمت عطا کی اور فضل کیا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو یہ اس کا بدلہ بن جائے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو شخص آپ کے ساتھ کوئی اچھائی کرتا تھا ، آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ اسے بدلہ دیں ، آپ نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کل تم ہمارے پاس آنا ، انہوں نے یہ بات نہیں سنی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ آپ ان کے پاس آئیں ، جب سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( اگلے دن ) حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کنیز دی اور فرمایا : اے ابوایوب ! اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ، کیونکہ یہ جب سے ہمارے پاس ہے ہم نے اس میں صرف بھلائی دیکھی ہے ۔ جب سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اس کنیز کو لے کر آ گئے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین کے حوالے سے مجھے اس سے بہتر صورت اور نہیں ملتی کہ میں اسے آزاد کر دوں تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔