مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : سَمِعَ عَمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمًا عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَخْرَجَكَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ ! " . قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَخْرَجَنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِي أَخْرَجَكَ ، ثُمَّ إِنْ عُمَرَ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! " . قَالَ : أَخْرَجَنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الَّذِي أَخْرَجَكُمَا . فَقَعَدَ مَعَهُمَا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ بِكُمَا مِنْ قُوَّةٍ فَتَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذَا النَّخْلِ فَتُصِيبَانِ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ ؟ " . فَقُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا مَنْزِلَ مَالِكِ بْنِ التَّيِّهَانِ : أَبِي الْهَيْثَمِ الْأَنْصَارِيِّ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِمْ ، وَأُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ تَسْمَعُ السَّلَامَ ، تُرِيدُ أَنْ يَزِيدَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السَّلَامِ . فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْصَرِفَ خَرَجَتْ أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ تَسْعَى فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعْتُ سَلَامَكَ ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَزِيدَنَا مِنْ سَلَامِكَ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ أَبُو الْهَيْثَمِ ؟ " . قَالَتْ : قَرِيبٌ ذَهَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ ، ادْخُلُوا السَّاعَةَ يَأْتِي ، فَبَسَطَتْ لَهُمْ بِسَاطًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، حَتَّى جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ مَعَ حِمَارِهِ ، وَعَلَيْهِ قِرْبَتَانِ مِنْ مَاءٍ ، فَفَرِحَ بِهِمْ أَبُو الْهَيْثَمِ ، وَقَرُبَ يُحَيِّيهِمْ ، فَصَعِدَ أَبُو الْهَيْثَمِ عَلَى نَخْلَةٍ فَصَرَمَ أَغْدَاقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَسْبُكَ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْكُلُونَ مِنْ بُسْرِهِ ، وَمِنْ رُطَبِهِ ، وَتَذْنُوبِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بِمَاءٍ فَشَرِبُوا عَلَيْهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " . ثُمَّ قَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى شَاةٍ لِيَذْبَحَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكَ وَاللَّبُونَ " . ثُمَّ قَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ فَعَجَنَ لَهُمْ . وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا ، فَاسْتَيْقَظُوا وَقَدْ أَدْرَكَ طَعَامُهُمْ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ; فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا . وَأَتَاهُمْ أَبُو الْهَيْثَمِ بِبَقِيَّةِ الْأَعْذَاقِ ، فَأَصَابُوا مِنْهُ ، وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ : " إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ أَتَانَا رَقِيقٌ فَائْتِنَا " . ¤ قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيقٌ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسًا ، فَكَاتَبْتُهُ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَمَا رَأَيْتُ رَأْسًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے کے وقت گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اس وقت کسی وجہ سے گھر سے باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اُسی وجہ سے باہر آیا ہوں جس وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن خطاب ! تم اس وقت کس وجہ سے باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس وجہ سے آپ دونوں باہر آئے ہیں ، پھر وہ ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دونوں کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : کیا تم دونوں میں اتنی قوت ہے کہ تم دونوں اس باغ تک جا سکو ؟ وہاں کھانے اور پینے کے لئے کچھ مل جائے گا ، ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! پھر ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم سیدنا مالک بن تیہان ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے بڑھے ، آپ نے ان لوگوں سے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، ابوالہیثم کی والدہ سلام کو سن رہی تھیں ، وہ یہ چاہتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مزید سلام کریں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس مڑنے کا ارادہ کیا تو ابوالہیثم کی والدہ دوڑتی ہوئی باہر آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا ، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ آپ کی طرف سے ہمارے لیے مزید سلام آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس خاتون سے دریافت کیا : ابوالہیثم کہاں ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : قریب ہی گئے ہیں ، یا رسول اللہ ! وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، آپ اندر آئیں وہ ابھی آ جائیں گے ، اس خاتون نے ایک درخت کے نیچے ان حضرات کے لئے ایک بچھونا بچھایا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گدھے کے ساتھ آ گئے ، اس گدھے پر پانی کے دو مشکیزے لدے ہوئے تھے ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں آ کر سلام کیا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کھجور کے درخت پر چڑھے اور انہوں نے کچھ گچھے اتار لیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوالہیثم ! اتنا کافی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، پھر وہ ان حضرات کے پاس پانی لے کر آئے ، ان حضرات نے وہ پانی پیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ نعمتیں ہیں ، جن کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا ۔ پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اٹھ کر بکری کی طرف بڑھے تاکہ اسے ذبح کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والی نہ کرنا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اٹھے ، انہوں نے ان حضرات کے لیے آٹا گوندھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سر رکھا اور سو گئے ، جب یہ حضرات بیدار ہوئے تو کھانا تیار ہو چکا تھا ، وہ انہوں نے ان حضرات کے سامنے رکھا تو ان حضرات نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باقی گچھے لے آئے ، ان حضرات نے وہ کھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی ، پھر آپ نے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس غلام آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آنا ۔ سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آئے ہیں ، میں مدینہ منورہ آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک غلام عطا کیا ، پھر میں نے اس کے ساتھ چالیس ہزار درہم کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا ، میں نے اس سے زیادہ برکت والا کوئی وجود نہیں دیکھا ۔