حدیث نمبر: 18258
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَبَسَكَ ؟ " . قَالَ : مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا ، وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ ، وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ ، وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا ؟ قَالَتْ : أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ ، فَذَاكَ حَبَسَنِي . فَقَالَ : " رَحِمْتَهَا - رَحِمَكَ اللَّهُ - " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الزَّعْفَرَانِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز کے لیے آنے میں تاخیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کسی چیز نے روک لیا ؟ انہوں نے بتایا : میرا گزر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( کے گھر ) کے پاس سے ہوا ، وہ چکی پیس رہی تھیں اور بچے رو رہے تھے ، میں نے کہا: آپ کی جگہ میں چکی پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں ، اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ چکی پیس لیں ، انہوں نے کہا: اپنے بیٹے کے لئے میں تم سے زیادہ مہربان ہوں ( یعنی میں بچے کو سنبھال لیتی ہوں ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) تو اس وجہ سے مجھے دیر ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اس پر رحم کیا ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوهاشم نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18258
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (150/3)»