مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ فَاطِمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهَا يَوْمًا فَقَالَ : " أَيْنَ أَبْنَائِي ؟ " . - يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا - . قَالَتْ : أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ يَذُوقُهُ ذَائِقٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَذْهَبُ بِهِمَا ; فَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ يَبْكِيَا عَلَيْكِ وَلَيْسَ عِنْدَكِ شَيْءٌ ، فَذَهَبَ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ . فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُمَا يَلْعَبَانِ فِي شَرِيَّةٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا فَضْلٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، أَلَا تَقْلِبُ ابْنَيَّ قَبْلَ أَنْ يَشْتَدَّ عَلَيْهِمَا الْحَرُّ ؟ " . قَالَ عَلِيٌّ : أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ ، فَلَوْ جَلَسْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَتَّى أَجْمَعَ لِفَاطِمَةَ تَمَرَاتٍ . فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اجْتَمَعَ لِفَاطِمَةَ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَجَعَلَهُ فِي صُرَّتِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدَهُمَا ، وَعَلِيٌّ الْآخَرَ حَتَّى أَقْلَبَهُمَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : میرے دونوں بیٹے کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حسن اور حسین تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ہم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے کوئی چکھنے والا چکھ سکتا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں کو لے جاتا ہوں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ دونوں تمہارے سامنے روئیں گے اور تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فلاں یہودی کی طرف گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف چلے گئے آپ نے ان دونوں کو پایا کہ وہ دونوں کھیل رہے تھے ، ان کے آگے اضافی کھجوریں پڑی ہوئی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کیا تم میرے دونوں بیٹوں کو گرمی شدید ہونے سے پہلے واپس نہیں لے جاؤ گے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی چیز نہیں تھی یا رسول اللہ ! اگر آپ تشریف فرما رہیں ، تاکہ میں فاطمہ کے لئے بھی کچھ کھجوریں اکٹھی کر لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہو گئے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے کچھ کھجوریں اکٹھی کیں اور انہیں تھیلی میں ڈال لیا ، پھر وہ آئے تو ان دونوں میں سے ایک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھا لیا اور دوسرے کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا اور ان دونوں کو لے کر آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔