مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمِ وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى الصَّفَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جِبْرِيلُ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَمْسَى لِآلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُفَّةٌ مِنْ دَقِيقٍ ، وَلَا كَفٌّ مِنْ سَوِيقٍ " . فَلَمْ يَكُنْ كَلَامُهُ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ سَمِعَ هَدَّةً مِنَ السَّمَاءِ أَفْزَعَتْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَرَ اللَّهُ الْقِيَامَةَ أَنْ تَقُومَ ؟ " . قَالَ : لَا . وَلَكِنْ أَمَرَ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ ، فَنَزَلَ إِلَيْكَ حِينَ سَمِعَ كَلَامَكَ ، فَأَتَاهُ إِسْرَافِيلُ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ سَمِعَ مَا ذَكَرْتَ ، فَبَعَثَنِي بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أُسَيِّرُ مَعَكَ جِبَالَ تِهَامَةَ زُمُرُّدًا ، وَيَاقُوتًا ، وَذَهَبًا ، وَفِضَّةً فَعَلْتُ ، فَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا ؟ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ أَنْ تَوَاضَعْ ، فَقَالَ : " بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا " . ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام صفا پہاڑی پر موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے جبرائیل ! اس ذات کی قسم ! جس نے تمہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کے پاس نہ مٹھی بھر آٹا ہے اور نہ مٹھی بھر جو ہیں ، ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کی ہی تھی کہ آسمان سے ایک گونج سنائی دی ، جس سے آپ پریشان ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اللہ تعالی نے قیامت کو قائم ہونے کا حکم دے دیا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کا کلام سنا تو اس نے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دیا تو وہ اتر کر آپ کی طرف آ رہے ہیں ، پھر سیدنا اسرافیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : آپ نے جو بات کہی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور اس نے مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے کر بھیجا ہے اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے یہ پیشکش رکھوں ( کہ اگر آپ چاہیں ) تو میں تہامہ کے پہاڑوں کو زمرد ، یاقوت ، سونے اور چاندی کا بنا کر آپ کے ساتھ چلاؤں ، تو میں ایسا کر لیتا ہوں ، اگر آپ چاہیں ، تو بادشاہ نبی بن جائیں اور اگر آپ چاہیں تو عبد نبی بن جائیں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں ” عبد نبی “ ( بننا پسند کروں گا ) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔