مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ يَمُرُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِلَالٌ ثُمَّ هِلَالٌ لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٌ مِنَ بُيُوتِهِمُ النَّارُ ، لَا لِخَبْزٍ ، وَلَا لِطَبِيخٍ . قَالُوا : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ ، وَالْمَاءُ . ¤ وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا - لَهُمْ مَنَائِحُ ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر پہلی کا ایک چاند آتا تھا ، پھر پہلی کا ایک اور چاند آ جاتا تھا اور اس دوران ان کے گھروں میں آگ نہیں جلائی گئی ہوتی تھی ، نہ روٹی پکانے کے لیے نہ کچھ اور پکانے کے لئے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوہریرہ ! پھر وہ لوگ گزارا کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو سیاہ چیزوں کے ذریعے ، یعنی کھجور اور پانی ، یا پھر یہ ہوتا تھا کہ ان کے انصاری پڑوسی تھے ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے ، ان کے جانور ہوتے تھے ، تو وہ کچھ دودھ ان کو ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو ) بھجوا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام بزار نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ۔