حدیث نمبر: 18253
وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ : لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْهَدُ فِيهِ ، أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْهَدُ فِيهَا ، وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ . قَالَ : فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَلِفُ . ¤ وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى : وَاللَّهِ ، مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ .
محمد محی الدین

علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” آج تم صبح اور شام ایسی حالت میں کرتے ہو کہ اپنی دلچسپی کی چیز حاصل کر لیتے ہو ، اس ( دنیا ) میں سے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہد کا طریقہ اختیار کیا تھا ، تم ایسی حالت میں صبح کرتے ہو کہ تم دنیا میں رغبت رکھتے ہو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتے تھے ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بھی رات آئی ، تو اس میں یہ صورتحال ہوتی کہ آپ کو جو ملنا ہوتا تھا آپ کے ذمہ اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُدھار لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یحیی کے علاوہ دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی بھی تین دن ایسے نہیں گزرے مگر یہ کہ جو آپ کو ملنا ہوتا تھا آپ کے ذمہ اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18253
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (204/4)»