حدیث نمبر: 18250
وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : كُنْتُ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ : لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِيثِ . قَالَ مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ : يَعْنِي الشَّعِيرَ وَالسُّلْتَ إِذَا خُلِطَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں ” اسکندریہ “ میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے اس بات کا ذکر چھیڑ دیا کہ وہ کس طرح کی صورتحال میں رہ رہے ہیں ؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب نے کہا: ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ کے اہل خانہ نے غلیث ( یعنی گندم اور جو کو ملا کر بنائی گئی ) روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی ۔ “ موسیٰ بن علی کہتے ہیں : اس سے مراد جو اور سلت ( یہ بھی جو کی ایک قسم ہے ، جس میں چھلکا نہیں ہوتا اور یہ گندم کے مشابہ ہوتا ہے ) کو ملا کر ( روٹی پکانا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (198/4)»