حدیث نمبر: 18245
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ مُتَغَيِّرًا ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ ، مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرًا ؟ ! قَالَ : " مَا دَخَلَ جَوْفِي مَا يَدْخُلُ جَوْفَ ذَاتِ كَبِدٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ " . قَالَ : فَذَهَبْتُ فَإِذَا يَهُودِيٌّ يَسْقِي إِبِلًا لَهُ ، فَسَقَيْتُ لَهُ عَلَى كُلِّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ، فَجَمَعْتُ تَمْرًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ يَا كَعْبُ ؟ " . فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتُحِبُّنِي يَا كَعْبُ ؟ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ ، نَعَمْ . قَالَ : " إِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مَعَادِنِهِ ، وَإِنَّهُ سَيُصِيبُكَ بَلَاءٌ فَأَعِدَّ لَهُ تَجْفَافًا " . قَالَ : فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَ كَعْبٌ ؟ " . قَالُوا : مَرِيضٌ ، فَخَرَجَ يَمْشِي حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " أَبْشِرْ يَا كَعْبُ " . فَقَالَتْ أُمُّهُ : هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ يَا كَعْبُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَذِهِ الْمُتَأَلِّيَةُ عَلَى اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : هِيَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ كَعْبٍ ؟ لَعَلَّ كَعْبًا قَالَ مَا لَا يَنْفَعُهُ ، وَمَنَعَ مَا لَا يُغْنِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو متغیر دیکھا ، میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ؟ میں آپ کو متغیر دیکھ رہا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پچھلے تین دن سے میرے پیٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں گئی جو کسی جاندار کے پیٹ میں جا سکتی ہو ، راوی کہتے ہیں : میں گیا ، ایک یہودی اپنے اونٹ کو پانی پلا رہا تھا میں نے ایک ڈول کے عوض میں ایک کجھور کے معاوضے کے تحت اسے پانی نکال کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں نے کھجوریں جمع کر لیں ، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے کعب ! یہ تمہیں کہاں سے ملی ہیں ؟ میں نے آپ کو بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے کعب ! کیا تم مجھ سے محبت رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف فقر اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہے جتنی تیزی سے سیلاب اپنے معادن کی طرف بڑھتا ہے ، عنقریب تمہیں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، تو تم ان کے لیے تیار رہنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غیر موجود پایا تو دریافت کیا : کعب کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ بیمار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل تشریف لے گئے اور ان کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے کعب ! تم خوش خبری قبول کرو ، ان کی والدہ نے کہا: اے کعب ! تمہیں جنت کی مبارکباد ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ خاتون کون ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایک بات منسوب کر رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری والدہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام کعب ! ہو سکتا ہے کہ کعب نے کوئی ایسی بات کی ہو جس کا اسے نفع نہ ہو ، اور ایسی چیز نہ دی ہو جس کی اسے ضرورت نہیں تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔