حدیث نمبر: 18244
وَعَنْ عَثْمَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنَّهُ لَيَسُوءُنِي الَّذِي أَرَى بِوَجْهِكَ ، وَعَمَّا هُوَ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِوَجْهِ الرَّجُلِ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " الْجُوعُ " . فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَعْدُو ، أَوْ شَبِيهًا بِالْعَدْوِ ، حَتَّى أَتَى بَيْتَهُ ، فَالْتَمَسَ عِنْدَهُمُ الطَّعَامَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا ، فَخَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَجَّرَ نَفْسَهُ عَلَى كُلِّ دَلْوٍ يَنْزِعُهَا بِتَمْرَةٍ ، حَتَّى جَمَعَ حَفْنَةً أَوْ كَفًّا مِنْ تَمْرٍ ، ثُمَّ رَجَعَ بِالتَّمْرِ حَتَّى وَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يَرُمْ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ : كُلْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ ؟ " . فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ : أَجَلْ . وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ، وَوَلَدِي ، وَأَهْلِي ، وَمَالِي ، قَالَ : " أَمَّا لَا فَاصْطَبِرْ لِلْفَاقَةِ ، وَأَعِدَّ لِلْبَلَاءِ تَجْفَافًا ; فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ ، لَهُمَا إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي أَسْرَعُ مِنْ هُبُوطِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے آپ کی ملاقات ہوئی ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کے چہرے کی جو کیفیت ہے وہ مجھے اچھی نہیں لگ رہی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمحے بھر کے لئے اس شخص کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا : بھوک ، وہ شخص دوڑتا ہوا یا دوڑنے کے قریب تیزی سے چلتا ہوا گیا اور اپنے گھر آیا ، اُس نے اپنے گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز تلاش کی ، اُسے کوئی چیز نہیں ملی ، وہ بنو قریظہ کے محلے کی طرف گیا اور ایک کھجور کے عوض میں پانی کا ایک ڈول نکالنے کی مزدوری کی ، یہاں تک کے اس کے پاس مٹھی بھر کھجوریں اکٹھی ہو گئیں ، تو وہ اُن کھجوروں کو لے کر واپس آیا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی محفل میں تشریف فرما تھے اور اُٹھے نہیں تھے ، اُس نے وہ کھجوریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کھائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں یہ کھجوریں کہاں سے ملی ہیں ؟ اُس نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتے ہو ، اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، آپ میرے نزدیک میری اپنی جان ، میری اولاد ، میرے اہل خانہ اور میرے مال سے زیادہ محبوب ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ایسا ہے تو تم فاقہ پر صبر کرنا اور آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ، اُس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، یہ دونوں مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتے ہیں ، جتنی تیزی سے پہاڑ کے سرے سے پانی اُس کے نچلے حصے کی طرف جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18244
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (83/18)»