مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : خَرَجْتُ فِي غَدَاةٍ شَاتِيَةٍ جَائِعًا ، وَقَدْ أَوْبَقَنِي الْبَرْدُ ، فَأَخَذْتُ ثَوْبًا مِنْ صُوفٍ قَدْ كَانَ عِنْدَنَا ، ثُمَّ أَدْخَلْتُهُ فِي عُنُقِي ، وَحَزَّمْتُهُ عَلَى صَدْرِي أَسْتَدْفِئُ بِهِ ، وَاللَّهِ ، مَا فِي بَيْتِي شَيْءٌ آكُلُ مِنْهُ ، وَلَا كَانَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ يُبَلِّغُنِي ; فَخَرَجْتُ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى يَهُودِيٍّ فِي حَائِطٍ ، فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهِ مِنْ ثُغْرَةِ جِدَارِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَعْرَابِيُّ ؟ هَلْ لَكَ فِي دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . افْتَحْ لِيَ الْحَائِطَ ، فَفَتَحَ لِي فَدَخَلْتُ ، فَجَعَلْتُ أَنْزِعُ الدَّلْوَ وَيُعْطِينِي تَمْرَةً ، حَتَّى مَلَأْتُ كَفَّيَّ . قُلْتُ : حَسْبِي مِنْكَ الْآنَ ، فَأَكَلْتُهُنَّ ، ثُمَّ جَرَعْتُ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ فِي عِصَابَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ فِي بُرْدَةٍ لَهُ مَرْقُوعَةٍ بِفَرْوَةٍ ، وَكَانَ أَنْعَمَ غُلَامٍ بِمَكَّةَ ، وَأَرْفَهَهُ عَيْشًا ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ النَّعِيمِ ، وَرَأَى حَالَهُ الَّتِي هُوَ عَلَيْهَا فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غُدِيَ عَلَى أَحَدِكُمْ بِحَفْنَةٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ ، وَرِيحَ عَلَيْهِ بِأُخْرَى ، وَغَدَا فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي أُخْرَى ، وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ ؟ " . قُلْنَا : بَلْ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ; نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ . قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سرد صبح میں باہر نکلا ، میں اس وقت بھوکا تھا اور سردی کی شدت سے میرا برا حال تھا ، میں نے اپنے پاس موجود اونی کپڑا لیا تھا اور اسے اپنی گردن پر لپیٹ کر سینے پر لپیٹ لیا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے مجھے گرمائش حاصل ہو ، اللہ کی قسم ! میرے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے میں کھا سکتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بھی کوئی چیز نہیں تھی جو آپ میری طرف بھجوا دیتے ، میں نکل کر مدینہ منورہ کے نواحی علاقے کی طرف گیا ، میں ایک یہودی کے باغ میں اس کے پاس آیا میں نے دیوار کے شگاف میں سے جھانک کر دیکھا تو اُس نے کہا: اے دیہاتی ! تمہیں کیا کام ہے ؟ کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ایک کھجور کے عوض میں پانی کا ایک ڈول نکال دو ؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے ، تم میرے لیے باغ کا دروازہ کھولو ، اُس نے میرے لئے دروازہ کھولا ، میں اندر داخل ہوا ، میں ایک ڈول نکالتا تھا اور وہ مجھے ایک کھجور دے دیتا تھا ، یہاں تک کہ میری ہتھیلی بھر گئی ، میں نے کہا: میرے لئے اتنا کافی ہے ، میں نے انہیں کھایا ، پھر میں نے پانی پیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور مسجد میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، آپ اس وقت اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ موجود تھے ، اسی دوران مصعب بن عمیر ہمارے سامنے آئے ، انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر پیوند لگے ہوئے تھے ، حالانکہ مکہ میں وہ سب سے زیادہ ناز و نعمت میں رہنے والے اور سب سے زیادہ خوشگوار زندگی گزارنے والے نوجوان تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا تو آپ کو یہ خیال آ گیا کہ وہ پہلے کس طرح کی نعمتوں میں رہتے تھے اور اب ان کا کیا حال ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ رونے لگے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ آج زیادہ بہتر ہو یا ( کل ) اُس وقت ( زیادہ بہتر ) ہو گے جب تم میں سے کسی ایک کے پاس صبح کے وقت روٹی اور گوشت کا ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا پیالہ لایا جائے گا ، وہ صبح کے وقت ایک حلہ پہنے گا اور شام کے وقت دوسرا پہنے گا ، اور تم اپنے گھروں پر یوں پردے لٹکاؤ گے جس طرح خانہ کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں ۔ “ ہم نے عرض کی : ہم اُس وقت بہترین حالت میں ہوں گے ، کیونکہ ہم عبادت کے لئے فارغ ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ تم آج زیادہ بہتر حالت میں ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔