مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا ، وَفِيمَا مَضَى مِنْهَا .
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ أَصْحَابَهُ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا شَفٌّ يَسِيرٌ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ " . وَمَا نَرَى الشَّمْسَ إِلَّا يَسِيرًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ خَلَفِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے اصحاب کو خطبہ دیا ، اس وقت سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، گزرے ہوئے کے مقابلے میں دنیا میں سے صرف اتنا حصہ باقی رہ گیا ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں تمہارا یہ دن باقی رہ گیا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہمیں تھوڑا سا سورج نظر آ رہا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے خلف بن موسیٰ کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔