مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُزْلَةِ . باب: گوشہ نشینی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ : حَجَّ عُمَرُ عَامَ الرَّمَادَةِ سَنَةَ سِتَّ عَشْرَةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السُّقْيَا وَالْعَرَجِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ عَرَضَ لَهُ رَاكِبٌ عَلَى الطَّرِيقِ فَصَاحَ : أَيُّهَا الرَّكْبُ ، أَفِيكُمُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : وَيْلَكَ ، أَتَعْقِلُ ؟ ! قَالَ : الْعَقْلُ سَاقَنِي إِلَيْكَ ، أَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : تُوُفِّيَ ، فَبَكَى وَبَكَى النَّاسُ مَعَهُ . فَقَالَ : مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ ؟ قَالُوا : ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَقَالَ : أَحْنَفُ بَنِي تَمِيمٍ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ . فَقَالَ : فَهُوَ فِيكُمْ ؟ قَالُوا : لَا . قَدْ تُوُفِّيَ ، فَدَعَا ، وَدَعَا النَّاسُ . فَقَالَ : مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ ، قَالُوا : عُمَرُ . قَالَ : أَحْمَرُ بَنِي عَدِيٍّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . هُوَ الَّذِي يُكَلِّمُكَ ، فَقَالَ : فَأَيْنَ كُنْتُمْ عَنْ أَبْيَضِ بَنِي أُمَيَّةَ ، أَوْ أَصْلَعِ بَنِي هَاشِمٍ ؟ قَالُوا : قَدْ كَانَ ذَاكَ فَمَا حَاجَتُكَ ؟ قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبُو عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيُّ عَلَى رَدْهَةِ جُعَيْلٍ ، فَأَسْلَمْتُ ، وَبَايَعْتُ ، وَشَرِبْتُ مَعَهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ ، شَرِبَ أَوَّلَهَا ، وَسَقَانِي آخِرَهَا ، فَوَاللَّهِ ، مَا زِلْتُ أَجِدُ شِبَعَهَا كُلَّمَا جُعْتُ ، وَبَرْدَهَا كُلَّمَا عَطِشْتُ ، وَرِيَّهَا كُلَّمَا ظَمِئْتُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ، ثُمَّ تَسَنَّمْتُ هَذَا الْجَبَلَ الْأَبْعَرَ أَنَا وَزَوْجَتِي وَبَنَاتٌ لِي ، فَكُنْتُ فِيهِ أُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَأَصُومُ شَهْرًا فِي السَّنَةِ ، وَأَذْبَحُ لِعَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ ، فَذَلِكَ مَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَتْ هَذِهِ السَّنَةُ ، فَوَاللَّهِ ، مَا بَقِيَتْ لَنَا شَاةٌ إِلَّا شَاةٌ وَاحِدَةٌ ، بَغَتَهَا الذِّئْبُ الْبَارِحَةَ ; فَأَكَلَ بَعْضَهَا وَأَكَلْنَا بَعْضَهَا ، فَالْغَوْثَ الْغَوْثَ ! فَقَالَ عُمَرُ : أَتَاكَ الْغَوْثُ ، أَصْبِحْ مَعَنَا بِالْمَاءِ . وَمَضَى عُمَرُ حَتَّى الْمَاءِ وَجَعَلَ يَنْتَظِرُ ، وَأَخَّرَ الرَّوَاحَ مِنْ أَجْلِهِ ، فَلَمْ يَأْتِ . فَدَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ : إِنَّ أَبَا عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيَّ مَعَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ لَهُ وَزَوْجُهُ ، فَإِذَا جَاءَكَ فَأَنْفِقْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ رَاجِعًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ حَجَّهُ وَرَجَعَ دَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَبُو عُقَيْلٍ ؟ فَقَالَ : جَاءَنِي الْغَدَ يَوْمَ حَدَّثْتَنِي ، فَإِذَا هُوَ مَوْعُوكٌ فَمَرِضَ عِنْدِي لَيَالٍ ثُمَّ مَاتَ ، فَذَاكَ قَبْرُهُ . فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ فِتْنَتَكُمْ ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَضَمَّ بَنَاتِهِ وَزَوْجَتَهُ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤اسلم بیان کرتے ہیں ” رمادہ “ کے سال ، یعنی سولہ ہجری میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لئے گئے ، جب وہ نصف رات کے وقت ” سقیا “ اور ” عرج “ کے درمیان تھے تو راستے میں ایک سوار اُن کے سامنے آیا اس نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے سوارو ! کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ! کیا تم عقل رکھتے ہو ؟ اس نے کہا: عقل ہی مجھے آپ کی طرف لے کر آئی ہے ، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ان کا وصال ہو چکا ہے ، وہ رونے لگا اس کے ساتھ لوگ بھی رونے لگے ، پھر اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد کون شخص معاملے کا نگران بنا ؟ لوگوں نے بتایا : ابوقحافہ کے صاحبزادے ! اس نے کہا: وہ کمزور سے شخص ، جن کا تعلق بنو تیم سے ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : کیا وہ تمہارے درمیان موجود ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ان کا بھی انتقال ہو گیا ہے ، اس نے دعا کی ، لوگوں نے بھی دعا کی ، اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد معاملے کا نگران کون بنا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، اس نے کہا: بنو عدی سے تعلق رکھنے والے سرخ رنگ کے فرد ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! وہی تمہارے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ، اس نے کہا: تم نے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) سفید رنگت کے فرد یا بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) آگے سے گنجے فرد کو فتخب کیوں نہیں کیا ؟ لوگوں نے کہا: اب تو یہ ہو چکا ہے ( تم بتاؤ ) تمہیں کیا کام ہے ؟ اس نے کہا: میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ” جعیل “ کی چٹان پر ہوئی تھی ، میں نے اسلام قبول کیا تھا اور بیعت کی تھی ، اور آپ کے ساتھ ستو پیا تھا ، جس کا ابتدائی حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور اس کا آخری حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پلایا تھا ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد جب بھی مجھے بھوک محسوس ہوتی ہے تو اس ستو پینے کی طاقت مجھے اپنے اندر محسوس ہوتی ہے اور جب بھی مجھے پیاس لگتی ہے تو اس کی ٹھنڈک مجھے محسوس ہوتی ہے اور جب بھی میں پیاسا ہوتا ہوں ، تو اس کی سیرابی مجھے محسوس ہوتی ہے اور ایسا آج کے دن تک ہوتا رہا ہے ، پھر میں نے اس پہاڑ کی چوٹی پر رہائش اختیار کر لی ، میں تھا ، میری بیوی تھی ، میری بیٹیاں تھیں ، میں وہاں روزانہ پانچ نمازیں ادا کرتا ہوں ، سال میں ایک مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہوں ، ذوالج کی دس تاریخ کو جانور ذبح کرتا ہوں ، یہ وہ امور ہیں جن کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ، یہاں تک کہ یہ سال آ گیا ، اللہ کی قسم ! میری بکریوں میں سے صرف ایک بکری بچی تھی اور اس کو بھی کل ایک بھیڑیا لے گیا ، اس بکری کا کچھ حصہ اس نے کھا لیا اور کچھ ہم نے کھا لیا تو اب مدد کی ضرورت ہے ، مدد کی ضرورت ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے پاس مدد آ جائے گی ، تم صبح تک ہمارے ساتھ پانی کے پاس رہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ پانی کے پاس پہنچ گئے ، وہ انتظار کرتے رہے ، انہوں نے اس شخص کی وجہ سے روانگی کو مؤخر کیا ، لیکن وہ نہیں آیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانی کے مالک ( یا وہاں کے مقامی بڑے ) کو بلایا اور یہ فرمایا : ابوعقیل جعیلی کے ساتھ اس کی تین بیٹیاں ہیں اور اس کی بیوی ہے جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس پر اور اس کے اہل خانہ پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرنا ، جب تک میں واپسی پر تمہارے پاس سے نہیں گزرتا ، اگر اللہ نے چاہا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کر لیا اور وہ واپس روانہ ہوئے ( راستے میں ) انہوں نے اس پانی کے مالک کو بلوایا اور دریافت کیا : ابوعقیل کے معاملے کا کیا بنا ؟ اس نے بتایا : جب آپ نے مجھے ہدایت کی تھی اس سے اگلے دن وہ میرے پاس آیا تھا ، اُسے بخار تھا وہ چند دن میرے پاس بیمار رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا ، اُس کی قبر وہاں ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس آزمائش سے راضی نہیں ہوا ، جس کا سامنا تم لوگوں کو کرنا پڑا ، پھر وہ لوگوں کے ساتھ اس کی قبر پر گئے اور انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، اُس کے بعد اس کی صاحبزادیوں اور بیوی کی کفالت انہوں نے اپنے ذمہ لی اور انہیں خرچ فراہم کرتے رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔