حدیث نمبر: 18193
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : مُوَرِّقٌ ، فَكَانَ مُتَعَبِّدًا ، فَبَيْنَا هُوَ قَائِمٌ فِي صَلَاتِهِ ذَكَرَ النِّسَاءَ ، وَاشْتَهَاهُنَّ وَانْتَشَرَ ، حَتَّى قَطَعَ صَلَاتَهُ ، فَغَضِبَ فَأَخَذَ قَوْسَهُ فَقَطَعَ وَتَرَهُ فَعَقَدَهُ بِخُصْيَتِهِ وَشَدَّهُ إِلَى عَقِبِهِ ، ثُمَّ شَدَّ رِجْلَيْهِ فَانْتَزَعَهَا ، ثُمَّ أَخَذَ طِمْرَيْهِ ، وَنَعْلَيْهِ حَتَّى أَتَى أَرْضًا لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ ، فَاتَّخَذَ عَرِيشًا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ كُلَّمَا أَصْبَحَ تَصَدَّعَتِ الْأَرْضُ ، فَخَرَجَ لَهُ خَارِجٌ مِنْهَا مَعَهُ إِنَاءٌ فِيهِ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ، ثُمَّ يَدْخُلُ ، فَيَخْرُجُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ، ثُمَّ يَدْخُلُ وَتَلْتَئِمُ الْأَرْضُ ، فَإِذَا أَمْسَى فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " . قَالَ : " وَمَرَّ النَّاسُ قَرِيبًا مِنْهُ ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّا بِهِ تَحْتَ جُنْحِ اللَّيْلِ ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَصْدِهِمَا ، فَسَمَتَ لَهُمَا بِيَدِهِ ، قَالَ : هَذَا قَصْدُكُمَا حَيْثُ يُرِيدَانِ ، فَسَارَا غَيْرَ بَعِيدٍ . قَالَ أَحَدُهُمَا : مَا يُسْكِنُ هَذَا الرَّجُلَ هَاهُنَا بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ ؟ لَوْ رَجَعْنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَعْلَمَ عِلْمَهُ " . قَالَ : " فَرَجَعَا إِلَيْهِ ، فَقَالَا لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَكَانِ بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ ؟ ! قَالَ : امْضِيَا لِشَأْنِكُمَا وَدَعَانِي ، فَأَبَيَا ، وَأَلَحَّا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَإِنِّي مُخْبِرُكُمَا عَلَى أَنَّ مَنْ كَتَمَ مِنْكُمَا عَنِّي أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا ، وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ أَظْهَرَ عَلَيَّ مِنْكُمَا أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا ، وَالْآخِرَةِ . قَالَا : نَعَمْ " . ¤ قَالَ : " فَنَزَلَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَّجَ الْخَارِجُ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَ الَّذِي كَانَ يُخْرِجُ مِنَ الطَّعَامِ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِثْلِ الَّذِي كَانَ يَخْرُجُ بِهِ كُلَّ يَوْمِ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ ، فَشَرِبُوا حَتَّى رَوُوا، ثُمَّ دَخَلَ ، وَالْتَأَمَتِ الْأَرْضُ " . قَالَ : " فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ ، فَقَالَ : مَا يُعْجِلُنَا ؟ هَذَا طَعَامٌ ، وَشَرَابٌ وَقَدْ عَلِمْنَا سَمْتَنَا مِنَ الْأَرْضِ ، امْكُثْ إِلَى الْعَشَاءِ . فَمَكَثَا ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِثْلُ الَّذِي خَرَجَ أَوَّلَ النَّهَارِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : امْكُثْ بِنَا حَتَّى نُصْبِحَ ، فَمَكَثَا . فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ إِلَيْهِمَا مِثْلُ ذَلِكَ . ثُمَّ رَكِبَا فَانْطَلَقَا ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَلَزِمَ بَابَ الْمَلِكِ حَتَّى كَانَ مِنْ خَاصَّتِهِ وَسُمَّرِهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ عَلَى تِجَارَتِهِ وَعَمَلِهِ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَلِكُ لَا يَكْذِبُ أَحَدٌ فِي زَمَانِهِ مِنْ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ كَذْبَةً يُعْرَفُ بِهَا إِلَّا صَلَبَهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي السَّمَرِ يُحَدِّثُونَهُ مِمَّا رَأَوْا مِنَ الْعَجَائِبِ أَنْشَأَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ بِحَدِيثٍ مَا سَمِعْتَ أَعْجَبَ مِنْهُ قَطُّ ؟ فَحَدَّثَ بِحَدِيثِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي رَأَى مِنْ أَمْرِهِ ، قَالَ الْمَلِكُ : مَا سَمِعْتُ بِكَذِبٍ قَطُّ أَعْظَمَ مِنْ هَذَا ، وَاللَّهِ ، لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَصْلُبَنَّكَ ، قَالَ : بَيِّنَتِي فُلَانٌ ، قَالَ : رِضَاءٌ . ائْتُونِي بِهِ ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ الْمَلِكُ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكُمَا مَرَرْتُمَا بِرَجُلٍ ، ثُمَّ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ الرَّجُلُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، أَوَ لَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا كَذِبٌ ، وَهَذَا مَا لَا يَكُونُ ؟ وَلَوْ أَنِّي حَدَّثْتُكَ بِهَذَا لَكَانَ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَصْلُبَنِي عَلَيْهِ . قَالَ : صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ ، فَأَدْخَلَ الرَّجُلَ الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ فِي خَاصَّتِهِ وَسُمَّرِهِ ، وَأَمَرَ بِالْآخَرِ فَصُلِبَ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَمَّا الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ مِنْهُمَا ; فَقَدْ أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَأَمَّا الَّذِي أَظْهَرُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا فَقَدْ أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا ، وَهُوَ مُهِينُهُ فِي الْآخِرَةِ " . ثُمَّ نَظَرَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْمُثَنَّى ، سَمِعْتَ جَدَّكَ يُحَدِّثُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ يَسِيرٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان میں ایک شخص تھا جس کا نام ” مورق “ تھا ، وہ عبادت گزار شخص تھا ، ایک مرتبہ وہ نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران اسے عورتوں کا خیال آیا اور اسے عورتوں کی شدید خواہش محسوس ہوئی وہ منتشر ہوا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی نماز توڑ دی ، پھر اسے غصہ آیا اس نے اپنی کمان لی اس کا تار کاٹا اور اس کے ذریعے اپنے خصیوں کو باندھ کر انہیں پیچھے کی طرف کھینچ دیا پھر اس نے اپنی چادر اور جوتے پکڑے اور ایسی سرزمین پر آ گیا ، جہاں کوئی فرد نہیں تھا اور کوئی جانور نہیں تھا ، وہاں اس نے ایک چھپر بنایا اور کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا صبح کے وقت زمین پھٹتی تھی ، اس میں سے کوئی باہر آتا تھا ، جس کے پاس ایک برتن ہوتا تھا ، جس میں کھانا موجود ہوتا تھا ” مورق “ وہ کھانا کھا لیتا تھا ، یہاں تک کہ سیر ہو جاتا تھا ، پھر وہ اندر چلا جاتا تھا ، پھر ایک برتن باہر آتا تھا ، جس میں مشروب ہوتا تھا ” مورق “ اس کو پیتا تھا ، یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا تھا ، پھر وہ برتن اندر چلا جاتا تھا اور زمین بند ہو جاتی تھی ، جب شام ہوتی تھی ، تو پھر ایسا ہوتا تھا ۔ ایک مرتبہ اس کے پاس سے کچھ افراد گزرے ، ان میں سے دو افراد ” مورق “ کے پاس سے گزرے ، رات ہو چکی تھی ان دونوں نے اس سے دریافت کیا : ان کی مطلوبہ جگہ کہاں ملے گی ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا : تمہارا مطلوبہ مقام اس طرف ہے ، وہ لوگ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ان میں سے ایک نے یہ کہا: یہ شخص یہاں کیسے رہا ہے ؟ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی جانور ہے ، اگر ہم اس کے پاس واپس جائیں تو ہمیں اس صورتحال کا پتہ چل جائے گا ، وہ دونوں اس کے پاس واپس آئے ، ان دونوں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم ایسی جگہ پر کیسے رہے ہو ؟ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی جانور ہے ، اس نے کہا: تم اپنے کام سے جاؤ اور مجھے چھوڑ دو ! لیکن ان دونوں نے یہ بات نہیں مانی اور اس کے سامنے گریہ و زاری کرتے رہے ، اس نے کہا: میں تمہیں اس شرط پر یہ بات بتاؤں گا کہ تم دونوں میں سے جو بھی میرا معاملہ پوشیدہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا کرے گا اور تم میں سے جس نے میرے معاملے کو ظاہر کیا ، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں رسوا کرے گا ، ان دونوں نے کہا: ٹھیک ہے ۔ پھر وہ دونوں وہاں ٹھہر گئے ، جب صبح ہوئی تو زمین میں سے کوئی باہر آیا جیسے وہ پہلے کھانا لے کے آتا تھا ، اس طرح کی مانند مزید دو گنا کھانا لے کر آیا ، ان لوگوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ زمین کے اندر گیا اور ان کے لیے ایک برتن میں مشروب لے کے آیا ، جتنا مشروب وہ پہلے لے کر آتا تھا اس کے ہمراہ مزید دو گنا تھا ، ان لوگوں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے ، پھر وہ ( مشروب لانے والا ) اندر چلا گیا اور زمین مل گئی ۔ ان دونوں افراد میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا: ہمیں کونسا جلدی ہے ، یہاں کھانا اور مشروب مل رہا ہے اور ہم نے جہاں جانا ہے ، اس کا ہمیں پتا ہے ، ہم شام تک ادھر ہی رہتے ہیں ، وہ دونوں وہاں ٹھہر گئے ، شام کے وقت پھر ان کے لئے اسی طرح کا کھانا اور مشروب آیا ، جس طرح دن کے ابتدائی حصے میں آیا تھا ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہم صبح ہونے تک ٹھہرے رہتے ہیں ، وہ دونوں ٹھہر گئے ، جب صبح ہوئی تو ان کے لئے پھر اسی طرح کھانا اور مشروب آیا ۔ پھر وہ دونوں سوار ہوئے اور وہاں سے روانہ ہو گئے ، ان دونوں میں سے ایک بادشاہ کا مقرب اور انتہائی قریبی ساتھی بن گیا دوسرا شخص اپنی تجارت اور کام کاج میں مصروف ہو گیا ، بادشاہ کا یہ معمول تھا کہ اس کی سلطنت میں جو بھی شخص جھوٹ بولتا تھا ، اور اس کا جھوٹ ثابت ہو جاتا تو بادشاہ اسے مصلوب کروا دیتا تھا ، ایک دن رات کے وقت بادشاہ کے مصاحب اس کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور انہوں نے جو حیران کن چیزیں دیکھی تھیں ان کا تذکرہ کر رہے تھے اسی دوران وہ شخص بولا: اسے بادشاہ سلامت ! کیا میں آپ کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ آپ نے کبھی اس سے زیادہ حیران کن بات نہیں سنی ہو گی ؟ پھر اس شخص نے اس ( یعنی عبادت گزار مورق ) کا واقعہ سنایا اور اس کے پاس جو صورتحال دیکھی تھی وہ بیان کی ، تو بادشاہ نے کہا: میں نے اس سے زیادہ بڑا جھوٹ کبھی نہیں سنا ، اللہ کی قسم ! تم نے جو بیان کیا ہے ، یا تو تم اس کا ثبوت پیش کرو گے یا پھر میں تمہیں مصلوب کروا دوں گا ، اس شخص نے کہا: میرا گواہ فلاں شخص ہے ، بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے اُسے میرے پاس لے کے آؤ ، جب وہ دوسرا شخص بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے کہا: اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ تم دونوں ایک فرد کے پاس سے گزرے تھے اور پھر وہاں اس اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی ؟ تو دوسرے شخص نے کہا: اے بادشاہ ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ یہ بات جھوٹ ہے اور یہ نہیں ہو سکتا ؟ اگر میں نے آپ کو یہ بات بیان کی ہوتی تو یہ آپ کا حق تھا کہ آپ اس کی وجہ سے مجھے مصلوب کروا دیتے ، بادشاہ نے کہا: تم نے سچ کہا: ہے اور تم نے نیکی کا کام کیا ہے ، تو جس دوسرے شخص نے اس بات کو چھپایا تھا ، بادشاہ نے اُسے اپنے مقربین میں شامل کر لیا اور جس شخص نے ( یہ راز افشا کیا تھا ) بادشاہ نے اسے مصلوب کروا دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُن دونوں میں سے جس نے اس کے معاملے کو پوشیدہ رکھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا کی اور ان دونوں میں سے جس نے اس کے معاملے کو ظاہر کیا تھا ، اللہ تعالی نے اُسے دنیا میں رسوائی کا شکار کیا اور وہ آخرت میں بھی اس کو رسوائی کا شکار کرے گا ۔ “ اس کے بعد بکر بن عبداللہ مزنی نامی راوی نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس کی طرف دیکھا اور بولے : اے ابومثنیٰ ! کیا آپ نے اپنے دادا ( یعنی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ اس کے بعض راویوں میں معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف