مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُزْلَةِ . باب: گوشہ نشینی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى بَابِهِ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ ؟ ! قَالَ : مَا لِي يُرِيدُ عَدُوُّ اللَّهِ أَنْ يَلْفِتَنِي عَمَّا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُكَابِدُ دَهْرَكَ فِي بَيْتِكَ ، أَلَا تَخْرُجَ إِلَى الْمَجْلِسِ ؟ " . وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّرُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ أَحَدًا بِسُوءٍ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . فَيُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَنِي عَدُوُّ اللَّهِ مِنْ بَيْتِي إِلَى الْمَجْلِسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ان کا گزر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ کے ذریعے یوں اشارہ کر رہے تھے جیسے اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ آپ اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں کیا کروں ، اللہ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ وہ مجھے اس کام کے حوالے سے پھسلا دے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ہمیشہ یہ بھرپور کوشش کرنا کہ اپنے گھر میں رہو اور نکل کر مجلس کی طرف نہ جاؤ ۔ “ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص حکمران کے پاس جاتا ہے تاکہ اس کی مدد کرے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اور جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی کی برائی کے ہمراہ غیبت نہیں کرتا ، وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ۔ “ ( پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو اللہ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ مجھے میرے گھر سے نکال کر محفل کی طرف لے جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔