حدیث نمبر: 18191
وَعَنْ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ قَالَ : كُنْتُ بِشَرَافٍ ، فَنَزَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ أَهْلِي بِأَشْيَاءَ ، وَجَاءَ غِلْمَةٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعٍ بِطَيْرٍ ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَنِي : مِنْ أَيْنَ جِئْتَنِي بِهَذَا الطَّيْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : جَاءَ غِلْمَانٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ صِيدَ لَا أُكَلِّمُ أَحَدًا بِشَيْءٍ ، وَلَا يُكَلِّمُنِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

عدسہ طائی بیان کرتے ہیں : میں ” شراف “ میں تھا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کر ٹھہرے ، میرے اہل خانہ نے کچھ اشیاء کے ہمراہ مجھے ان کی طرف بھیجا ، ہمارے کچھ غلام جو ہمارے اونٹوں میں ( آبادی سے دور ) ہوتے تھے ، وہ چار دن کے فاصلے سے پرندے لے کے آئے ، جب میں ان پرندوں کا گوشت ان کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم یہ پرندے کہاں سے میرے پاس لے کے آئے ہو ؟ میں نے بتایا : ہمارے کچھ غلام ہیں جو ہمارے اونٹوں میں ہوتے ہیں ، وہ چار دن کے فاصلے سے اسے لے کر آئے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ جہاں اس پرندے کا شکار ہوا ہے ( یعنی جو جگہ آبادی سے چار دن کے فاصلے پر موجود ہے ) میں وہاں رہتا ، جہاں میرے ساتھ کوئی بات کرنے والا نہ ہوتا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عدسہ طائی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (87580)»