مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُزْلَةِ . باب: گوشہ نشینی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ مَيْسَرَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ : " رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْظُرُ أَنْ يُغِيرَ ، أَوْ يُغَارَ عَلَيْهِ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَهُ رَجُلًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى . فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْحِجَازِ فَقَالَ : " رَجُلٌ فِي غَنِيمَةٍ ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، يَعْلَمُ مَا حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى فِي مَالِهِ قَدِ اعْتَزَلَ النَّاسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدہ ام میسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھام لیتا ہے اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ وہ حملہ کرے ؟ یا اس پر حملہ کیا جائے ؟ کیا میں تمہیں اس کے بعد والے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حجاز کی طرف اشارہ کر کے یہ ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اپنی بھیڑ بکریوں کے درمیان موجود ہو اور نماز قائم کرے ، زکوۃ ادا کرے ، وہ اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کے حق کا علم رکھتا ہو اور لوگوں سے الگ تھلگ رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحق نامی راوی مدلس ہے ۔