حدیث نمبر: 18189
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ انْقَطَعَ إِلَى اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ كُلَّ مَئُونَةٍ ، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ، وَمَنِ انْقَطَعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَكِلَهُ اللَّهُ إِلَيْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثِ صَاحِبُ الْفُضَيْلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُغَرِّبُ وَيُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ( دنیا سے ) لاتعلقی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر ضرورت کے حوالے سے اُس کے لیے کفایت کرتا ہے اور اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص مکمل طور پر دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ، اللہ تعالی اسے دنیا کے سپرد کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اشعث ہے جو فضیل کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (321)»