حدیث نمبر: 18155
وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " تَمْلِكُ يَدَكَ ؟ " . قُلْتُ : فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي ؟ قَالَ : " تَمْلِكُ لِسَانَكَ ؟ " . قُلْتُ : فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي ؟ قَالَ : " لَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ ، وَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ ( یعنی کیا وہ تمہارے ق ابومیں ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ پر ق ابونہیں رکھوں گا ، تو کس پر ق ابورکھوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہیں اپنی زبان پر ق ابوہے ؟ میں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان پر ق ابونہیں رکھوں گا تو کس پر ق ابورکھوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنا ہاتھ صرف بھلائی کی طرف بڑھانا اور تم اپنی زبان کے ذریعے صرف نیکی کی بات کہنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (818)»