حدیث نمبر: 18154
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ ارْتَقَى الصَّفَا ، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ : يَالِسَانِ قُلْ خَيْرًا تَغْنَمْ ، وَاسْكُتْ عَنْ شَرٍّ تَسْلَمْ ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ . ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَكْثَرُ خَطَايَ ابْنِ آدَمَ ، فِي لِسَانِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابووائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ صفا پہاڑ پر چڑھے ، پھر انہوں نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا : اے زبان ! تم بھلائی کی بات کرو ، تم غنیمت حاصل کر لو گی ، اور تم برائی کے حوالے سے خاموش رہو تم سلامت رہو گی ، اس سے پہلے کہ تم ندامت کا شکار ہو ، اس سے پہلے کہ تم ندامت کا شکار ہو ۔ “ پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ابن آدم کی زیادہ تر خطائیں اُس کی زبان کے حوالے سے ہوتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10446)»