حدیث نمبر: 18156
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلُّ مَا نَتَكَلَّمُ بِهِ يُكْتَبُ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ؟ ! إِنَّكَ لَنْ تَزَالَ سَالِمًا مَا سَكَتَّ ، فَإِذَا تَكَلَّمْتَ كُتِبَ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ مِنْ قَوْلِهِ : " إِنَّكَ لَنْ تَزَالَ " . إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جو بھی کلام کرتے ہیں وہ ہمارے حوالے سے نوٹ کیا جاتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو جہنم میں ان کے نتھنوں کے بل اوندھا کر کے صرف اُن کی زبان کی ( باتوں ) کی وجہ سے ہی ڈالا جائے گا ، تم جب تک خاموش رہو گے اس وقت تک سلامت رہو گے اور جب تم کلام کرو گے تو وہ تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف نوٹ کیا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے ان الفاظ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے : ” تم اس وقت تک سلامت رہو گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہاں سے لے کر روایت کے آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل کیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (73/20)»