مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمْتِ وَحِفْظِ اللِّسَانَ . باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ : أَوْصَى ابْنُ مَسْعُودٍ أَبَا عُبَيْدَةَ ابْنَهُ بِثَلَاثِ كَلِمَاتٍ : أَيْ بُنَيَّ ، أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ وَامْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : حَدَّثَنِي آلُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَوْصَى ابْنَهُ . ¤اسماعیل بن ابوخالد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے ابوعبیدہ کو تین باتوں کی وصیت کی تھی : ” اے میرے بیٹے ! میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش والا ہونا چاہیے اور تم اپنے گناہوں پر رونا اور اپنی زبان کو روکے رکھنا ( یعنی اس کو ق ابومیں رکھنا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن عمر کا معاملہ مختلف ہے ، وہ کہتے ہیں : آل عبداللہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو یہ وصیت کی تھی ۔