مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَحْتَقِرُهُ الْإِنْسَانُ مِنَ الْكَلَامِ . باب: ایسے کلام کا بیان ، جسے آدمی حقیر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 18140
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ ، مَا يَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مِنْهَا بِشَيْءٍ يَنْزِلُ بِهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ رَجَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” آدمی کوئی بات کرتا ہے تاکہ اُس کے ذریعے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہنسائے ، وہ وہاں سے کوئی چیز واپس لے کر نہیں لوٹتا ، لیکن وہ اس کلمے کی وجہ سے اس سے زیادہ بلندی سے گرے گا جتنا آسمان سے زمین تک کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن رجاء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔