حدیث نمبر: 18141
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سماک بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتے رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طویل خاموشی ( اختیار کیے رکھتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18141
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (86/5)»