مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَحْتَقِرُهُ الْإِنْسَانُ مِنَ الْكَلَامِ . باب: ایسے کلام کا بیان ، جسے آدمی حقیر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 18139
وَعَنْ أَمَةَ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّةِ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَيْدُ ذِرَاعٍ ، فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا إِلَى أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیده امۃ بنت ابوالحکم غفاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی جنت کے قریب ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان میں ایک ذراع ( یعنی کہنی سے لے کر سب سے بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے پھر وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کی وجہ سے وہ جنت سے اس سے زیادہ دور ہو جاتا ہے جتنا ( یہاں سے ) صنعاء تک کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔