مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَحْتَقِرُهُ الْإِنْسَانُ مِنَ الْكَلَامِ . باب: ایسے کلام کا بیان ، جسے آدمی حقیر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 18138
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - يَرْفَعُهُ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ ، وَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” آدمی کوئی بات کرتا ہے اور اس ( بات ) کے ذریعے اُس کا مقصد کوئی حرج والا نہیں ہوتا ، صرف اس کے ذریعے کچھ لوگوں کو ہنسانا مقصود ہوتا ہے لیکن اُس ( بات ) کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ ( بلندی سے جہنم میں ) گرے گا جتنا آسمان کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔