مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَحْتَقِرُهُ الْإِنْسَانُ مِنَ الْكَلَامِ . باب: ایسے کلام کا بیان ، جسے آدمی حقیر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 18134
عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، وَعَنْ زُفَرَ ، وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، وَعَنْ سُلَيْكِ بْنِ مِسْحَلٍ قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَتُكَلِّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّفَاقَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
شتیر بن شکل ، زفر ، صلہ بن زفر اور سلیک بن مسحل بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت بات چیت کر رہے تھے انہوں نے فرمایا : تم لوگ ایسا کلام کر جاتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اُسے منافقت شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مدلس ہے ۔