مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَحْتَقِرُهُ الْإِنْسَانُ مِنَ الْكَلَامِ . باب: ایسے کلام کا بیان ، جسے آدمی حقیر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 18135
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْيَوْمِ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ .محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ درست فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، بعض اوقات کوئی شخص ایسا کلام کرتا تھا کہ اس کے ذریعے وہ منافق ہو جاتا تھا اور اب ویسا کلام ، میں تم میں سے کسی ایک کی زبانی ایک محفل میں دس مرتبہ سن لیتا ہوں ۔