حدیث نمبر: 18117
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا لَا أُرِيدُ أَنْ أَدَعَ مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي عِصَابَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ ، فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ لِأَدْنُوَ مِنْهُ ، فَانْتَهَرَنِي بَعْضُهُمْ فَقَالَ : إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعَوْا وَابِصَةَ ، ادْنُ مِنِّي يَا وَابِصَةُ " . فَأَدْنَانِي حَيْثُ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أَتَسْأَلُنِي أَمْ أُخْبِرُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : لَا . بَلْ تُخْبِرُنِي . فَقَالَ : جِئْتَ تَسْأَلُ عَنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ " . قُلْتُ : نَعَمْ . فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُثُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَقَالَ : " الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں ہر نیکی اور گناہ کے بارے میں آپ سے دریافت کروں گا ، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے جو آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، میں ان کو پھلانگ کر آپ کے قریب ہونے لگا تو ان میں سے کسی نے مجھے ڈانٹا اور یہ کہا: اے وابصہ ! اللہ کے رسول سے دور رہو ! میں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے قریب ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وابصہ کو رہنے دو ! اے وابصہ ! تم میرے قریب آ جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قریب آنے کا کہا: ، یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مجھ سے سوال کرو گے ؟ یا میں تمہیں بتا دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوریں اکٹھی کیں اور ان کے ذریعے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا : ” نیکی وہ ہے جس کے بارے میں نفس مطمئن ہو اور جس کے بارے میں دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور نفس تردد کا شکار ہو ، خواہ لوگ تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ اس صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح