حدیث نمبر: 18118
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ " . قَالَ : فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو چیز تمہارے سینے میں کھٹکے تم اُسے چھوڑ دو ، اس نے دریافت کیا : ایمان کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اپنی برائی بری لگے اور اپنی اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے ان صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8641) اخرجه احمد في (8641) اخرجه احمد فى المسند (251/5)»