مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوَرُّعِ عَنِ الشُّبُهَاتِ . باب: مشتبہ چیزوں سے بچنا
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نَبِّئْنِي . قَالَ : " إِنْ شِئْتَ أَنْبَأَتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَسَلْ " . قَالَ : بَلْ نَبِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي ، قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْيَقِينِ وَالشَّكِّ " . قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ . قَالَ : " فَإِنَّ الْيَقِينَ مَا اسْتَقَرَّ فِي الصَّدْرِ ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ ، دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، فِإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّكَ رِيبَةٌ وَإِذَا شَكَكْتَ فَدَعْ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے بتائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہیں اُس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں جس کئے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تم آئے ہو ، اور اگر تم چاہو تو تم سوال کر لو ، میں نے عرض کی : بلکہ آپ مجھے بتائیے یا رسول اللہ ! کیونکہ یہ چیز میرے لئے زیادہ اطمینان کا باعث ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یقین اور شک کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : ایسا ہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقین وہ ہے جو سینے میں جم جائے اور جس سے دل مطمئن ہو ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ، تم اُس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اور اُس کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے ، کیونکہ بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور شک بے اطمینانی ہوتی ہے ، جب تمہیں شک ہو تو تم چھوڑ دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اُس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ کندی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔