کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مشتبہ چیزوں سے بچنا
حدیث نمبر: 18112
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً مِنَ الْحَلَالِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ : الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اپنے اور حرام کے درمیان ، حلال کا سترہ بنا لو “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد مقدام بن داؤد کا معاملہ مختلف ہے اور اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18113
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا شُبُهَاتٌ ، مَنْ تَوَقَّاهُنَّ كُنَّ وِقَاءً لِدِينِهِ ، وَمَنْ يُوقَعْ فِيهِنَّ يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ ، كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى ، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، لِكُلِّ مِلْكٍ حِمًى " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ، جو شخص ان سے احتیاط کرے گا تو یہ اس کے دین کے لیے تکمیل کا باعث ہو گا اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جائے گا تو عنقریب وہ کبیرہ گناہوں میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے جیسے چراگاہ کے اردگرد چرنے والا ، ممکن ہے چراگاہ کے اندر بھی داخل ہو جائے اور ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «خرجه أبو يعلى فى المسند (1653) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1756)»
حدیث نمبر: 18114
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ شُبُهَاتٌ ، فَمَنْ أُوقِعَ بِهِنَّ فَهُوَ قَمِنٌ أَنْ يَأْثَمَ ، وَمَنِ اجْتَنَبَهُنَّ فَهُوَ أَوْفَرُ لِدِينِهِ ، كَمُرْتِعٍ إِلَى جَنْبِ حِمًى ، أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَحِمَى اللَّهِ الْحَرَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَابِقٌ الْجَزَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ، جو شخص اُن میں مبتلا ہو جائے تو وہ اس لائق ہو گا کہ وہ گناہگار ہو جائے اور جو شخص ان سے اجتناب کرے گا وہ اپنے دین کے لیے بہتر کرے گا جیسے چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ممکن ہے چراگاہ میں داخل ہو جائے ، ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ ، اس کی حرام کی ہوئی اشیاء ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سابق جزری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10824)»
حدیث نمبر: 18115
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : تَرَاءَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ : إِلَيْكِ يَا وَاثِلَةُ ، أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ يَسْأَلُ " . قَالَ : فَدَنَوْتُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِتُفْتِنَا مِنْ أَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ ، قَالَ : " لِتُفْتِكَ نَفْسُكَ " . قَالَ : قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ ! قَالَ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ " . قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ; فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَّالِ ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ ، وَإِنَّ الْوَرِعَ الْمُسْلِمَ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ " . قُلْتُ : فَمَنِ الْحَرِيصُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَطْلُبُ الْمَكْسَبَةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا " . قُلْتُ : فَمَنَ الْوَرِعُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ " . قُلْتُ : فَمَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ قَالَ : " مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ " . قُلْتُ : فَمَنِ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " كَلِمَةُ حُكْمٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسجد خیف میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آیا تو آپ کے اصحاب نے مجھ سے فرمایا ہے : اے واثلہ ! ایک طرف ہو جاؤ ! ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے ہٹ جاؤ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ سوال کرنے کے لیے آیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں قریب ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں احکام بیان کر دیں ، جنہیں ہم آپ کے بعد بھی اختیار کیے رکھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے نفس کو تمہیں حکم بیان کرنا چاہیئے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو چیز تمہیں مشکوک لگے ، تم اُسے چھوڑ کر اُس کی طرف چلے جاؤ جو تمہیں مشکوک نہ لگے ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔ “ میں نے دریافت کیا : مجھے اُس کا علم کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھنا ، کیونکہ دل حلال کے ذریعے سکون حاصل کرتا ہے ، وہ حرام کے ذریعے سکون حاصل نہیں کرتا اور پرہیزگار مسلمان صغیرہ گناہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے ، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ کبیرہ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے ۔ “ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، عصبیت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کی مدد کرے ۔ میں نے دریافت کیا : حریض کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو ناجائز طور پر آمدن حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : پرہیزگار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مشتبہ چیز سے رک جائے ۔ میں نے دریافت کیا : مومن کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس سے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں ۔ میں نے دریافت کیا : مسلمان کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں ۔ میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ظالم حکمران کے سامنے صحیح بات کہنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7492) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (78/22)»
حدیث نمبر: 18116
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نَبِّئْنِي . قَالَ : " إِنْ شِئْتَ أَنْبَأَتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَسَلْ " . قَالَ : بَلْ نَبِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي ، قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْيَقِينِ وَالشَّكِّ " . قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ . قَالَ : " فَإِنَّ الْيَقِينَ مَا اسْتَقَرَّ فِي الصَّدْرِ ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ ، دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، فِإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّكَ رِيبَةٌ وَإِذَا شَكَكْتَ فَدَعْ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے بتائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہیں اُس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں جس کئے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تم آئے ہو ، اور اگر تم چاہو تو تم سوال کر لو ، میں نے عرض کی : بلکہ آپ مجھے بتائیے یا رسول اللہ ! کیونکہ یہ چیز میرے لئے زیادہ اطمینان کا باعث ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یقین اور شک کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : ایسا ہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقین وہ ہے جو سینے میں جم جائے اور جس سے دل مطمئن ہو ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ، تم اُس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اور اُس کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے ، کیونکہ بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور شک بے اطمینانی ہوتی ہے ، جب تمہیں شک ہو تو تم چھوڑ دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اُس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ کندی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18117
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا لَا أُرِيدُ أَنْ أَدَعَ مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي عِصَابَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ ، فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ لِأَدْنُوَ مِنْهُ ، فَانْتَهَرَنِي بَعْضُهُمْ فَقَالَ : إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعَوْا وَابِصَةَ ، ادْنُ مِنِّي يَا وَابِصَةُ " . فَأَدْنَانِي حَيْثُ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أَتَسْأَلُنِي أَمْ أُخْبِرُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : لَا . بَلْ تُخْبِرُنِي . فَقَالَ : جِئْتَ تَسْأَلُ عَنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ " . قُلْتُ : نَعَمْ . فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُثُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَقَالَ : " الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں ہر نیکی اور گناہ کے بارے میں آپ سے دریافت کروں گا ، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے جو آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، میں ان کو پھلانگ کر آپ کے قریب ہونے لگا تو ان میں سے کسی نے مجھے ڈانٹا اور یہ کہا: اے وابصہ ! اللہ کے رسول سے دور رہو ! میں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے قریب ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وابصہ کو رہنے دو ! اے وابصہ ! تم میرے قریب آ جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قریب آنے کا کہا: ، یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مجھ سے سوال کرو گے ؟ یا میں تمہیں بتا دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوریں اکٹھی کیں اور ان کے ذریعے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا : ” نیکی وہ ہے جس کے بارے میں نفس مطمئن ہو اور جس کے بارے میں دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور نفس تردد کا شکار ہو ، خواہ لوگ تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ اس صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 18118
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ " . قَالَ : فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو چیز تمہارے سینے میں کھٹکے تم اُسے چھوڑ دو ، اس نے دریافت کیا : ایمان کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اپنی برائی بری لگے اور اپنی اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے ان صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8641) اخرجه احمد في (8641) اخرجه احمد فى المسند (251/5)»
حدیث نمبر: 18119
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رُومَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس چیز کو چھوڑ دو ! جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس کی طرف جاؤ ! جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابورومان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (32)»