حدیث نمبر: 18115
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : تَرَاءَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ : إِلَيْكِ يَا وَاثِلَةُ ، أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ يَسْأَلُ " . قَالَ : فَدَنَوْتُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِتُفْتِنَا مِنْ أَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ ، قَالَ : " لِتُفْتِكَ نَفْسُكَ " . قَالَ : قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ ! قَالَ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ " . قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ; فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَّالِ ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ ، وَإِنَّ الْوَرِعَ الْمُسْلِمَ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ " . قُلْتُ : فَمَنِ الْحَرِيصُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَطْلُبُ الْمَكْسَبَةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا " . قُلْتُ : فَمَنَ الْوَرِعُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ " . قُلْتُ : فَمَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ قَالَ : " مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ " . قُلْتُ : فَمَنِ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " كَلِمَةُ حُكْمٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسجد خیف میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آیا تو آپ کے اصحاب نے مجھ سے فرمایا ہے : اے واثلہ ! ایک طرف ہو جاؤ ! ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے ہٹ جاؤ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ سوال کرنے کے لیے آیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں قریب ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں احکام بیان کر دیں ، جنہیں ہم آپ کے بعد بھی اختیار کیے رکھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے نفس کو تمہیں حکم بیان کرنا چاہیئے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو چیز تمہیں مشکوک لگے ، تم اُسے چھوڑ کر اُس کی طرف چلے جاؤ جو تمہیں مشکوک نہ لگے ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔ “ میں نے دریافت کیا : مجھے اُس کا علم کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھنا ، کیونکہ دل حلال کے ذریعے سکون حاصل کرتا ہے ، وہ حرام کے ذریعے سکون حاصل نہیں کرتا اور پرہیزگار مسلمان صغیرہ گناہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے ، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ کبیرہ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے ۔ “ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، عصبیت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کی مدد کرے ۔ میں نے دریافت کیا : حریض کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو ناجائز طور پر آمدن حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : پرہیزگار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مشتبہ چیز سے رک جائے ۔ میں نے دریافت کیا : مومن کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس سے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں ۔ میں نے دریافت کیا : مسلمان کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں ۔ میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ظالم حکمران کے سامنے صحیح بات کہنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7492) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (78/22)»