حدیث نمبر: 18114
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ شُبُهَاتٌ ، فَمَنْ أُوقِعَ بِهِنَّ فَهُوَ قَمِنٌ أَنْ يَأْثَمَ ، وَمَنِ اجْتَنَبَهُنَّ فَهُوَ أَوْفَرُ لِدِينِهِ ، كَمُرْتِعٍ إِلَى جَنْبِ حِمًى ، أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَحِمَى اللَّهِ الْحَرَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَابِقٌ الْجَزَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ، جو شخص اُن میں مبتلا ہو جائے تو وہ اس لائق ہو گا کہ وہ گناہگار ہو جائے اور جو شخص ان سے اجتناب کرے گا وہ اپنے دین کے لیے بہتر کرے گا جیسے چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ممکن ہے چراگاہ میں داخل ہو جائے ، ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ ، اس کی حرام کی ہوئی اشیاء ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سابق جزری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10824)»