حدیث نمبر: 18113
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا شُبُهَاتٌ ، مَنْ تَوَقَّاهُنَّ كُنَّ وِقَاءً لِدِينِهِ ، وَمَنْ يُوقَعْ فِيهِنَّ يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ ، كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى ، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، لِكُلِّ مِلْكٍ حِمًى " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ، جو شخص ان سے احتیاط کرے گا تو یہ اس کے دین کے لیے تکمیل کا باعث ہو گا اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جائے گا تو عنقریب وہ کبیرہ گناہوں میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے جیسے چراگاہ کے اردگرد چرنے والا ، ممکن ہے چراگاہ کے اندر بھی داخل ہو جائے اور ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «خرجه أبو يعلى فى المسند (1653) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1756)»