مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّفَقَةِ مِنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ . باب: حلال یا حرام میں سے خرچ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قَالُوا : وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " غَشْمُهُ ، وَظُلْمُهُ ، وَلَا اكْتَسَبَ عَبْدٌ مَالًا حَرَامًا فَيَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يُنْفِقُهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَدَعُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ . إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، وَالْخَبِيثُ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ ، وَمَنِ اكْتَسَبَ مَالًا مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ ، فَوَضَعَهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ، فَذَاكَ الدَّاءُ الْعُضَالُ ، وَمَنِ اكْتَسَبَ مَالًا فَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَمِثْلُ ذَلِكَ مِثْلُ الْغَيْثِ يَنْزِلُ " . وَذَكَرَ كَلِمَةً ذَهَبَتْ عَنِّي . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالی دنیا اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور ( اُسے بھی دیتا ہے ) جسے وہ پسند نہیں کرتا ، لیکن وہ دین صرف اُسے دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے خدا کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو اور بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک اس کا پڑوسی اس کی زیادتی سے محفوظ نہ ہو ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کی زیادتی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا زیادتی کرنا اور ظلم کرنا ، اگر بندہ حرام طور پر مال کما کر اسے صدقہ کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا اور اگر وہ اس میں سے خرچ کرے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ اس مال کو اپنے پیچھے چھوڑ جائے تو وہ جہنم تک جانے کے لیے اس کا زاد سفر ہو گا ، بے شک اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے بلکہ وہ برائی کو اچھائی کے ذریعے مٹاتا ہے ، خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹاتی ہے ، اگر کوئی شخص مال ناجائز طور پر کماتا ہے اور اسے ناحق طور پر خرچ کرتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ بیماری ہے اور جو شخص مال جائز طریقے سے کماتا ہے اور اسے صحیح طور پر خرچ کرتا ہے تو اس کی مثال بارش کی مانند ہے جو نازل ہوتی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے ایک کلمہ ذکر کیا تھا ، جو مجھے یاد نہیں رہا ۔