مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّفَقَةِ مِنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ . باب: حلال یا حرام میں سے خرچ کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا خَرَجَ الْخَارِجُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، وَنَادَى : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَلَالٌ ، وَرَاحِلَتُكَ حَلَالٌ ، وَحَجُّكَ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَا لَبَّيْكَ وَلَا سَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَرَامٌ ، وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی حج کرنے کے لیے نکلتا ہے اور اس کی رقم پاکیزہ ( یعنی حلال ) ہو ، تو جب وہ اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے اور پکار کر یہ کہتا ہے : میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے : تمہاری حاضری قبول ہوئی ، تمہیں شہادت نصیب ہوئی ، کیونکہ تمہارا زاد سفر حلال ہے ، تمہاری سواری حلال ہے ، تمہارا حج نیکی والا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور جب کوئی شخص ناجائز آمدن کے ذریعے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں لگام میں رکھتا ہے اور بلند آواز میں پکار کر کہتا ہے : میں حاضر ہوں ، تو آسمان سے منادی یہ کہتا ہے : نہ تمہاری حاضری قبول ہے نہ تمہیں سعادتمندی نصیب ہوئی ، تمہارا زاد سفر حرام ہے ، تمہارا خرچ حرام ہے اور تمہارا حج نیکی والا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔