کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حلال یا حرام میں سے خرچ کرنا
حدیث نمبر: 18102
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ فِي هَذَا الدِّينِ وَأَلْيَنِهِ ، فَقَالَ : " أَلْيَنُهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَشُدُّهُ يَا أَخَا الْعَالِيَةِ ، الْأَمَانَةُ ; إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا صَلَاةَ وَلَا زَكَاةَ لَهُ . يَا أَخَا الْعَالِيَةِ ، إِنَّ مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَلَبِسَ جِلْبَابًا - يَعْنِي قَمِيصًا - لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ حَتَّى يُنَحِّيَ ذَلِكَ الْجِلْبَابَ عَنْهُ ; إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَكْرَمُ وَأَجَلُّ يَا أَخَا الْعَالِيَةِ ، مِنْ أَنْ يَقْبَلَ عَمَلَ رَجُلٍ أَوْ صَلَاتَهُ وَعَلَيْهِ جِلْبَابٌ مِنْ حَرَامٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو الْجَنُوبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران اہل عالیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس دین کی سب سے زیادہ سخت ( یعنی مشکل ) چیز اور سب سے زیادہ نرم ( یعنی آسان ) چیز کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کی سب سے نرم چیز اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور اسے عالیہ سے تعلق رکھنے والے فرد ! اس کی سب سے زیادہ سخت چیز امانت ہے ، اس شخص کا دین نہیں جس کی امانت نہ ہو ، نہ اس کی نماز ہے ، نہ اس کی زکوۃ ہے ، اے عالیہ سے تعلق رکھنے والے فرد ! جو شخص حرام طور پر مال حاصل کرے ، اور اس کے ذریعے قمیص پہنے ، تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، جب تک وہ اس قمیص کو اُتار نہیں دیتا ، اے عالیہ سے تعلق رکھنے والے فرد ! اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بلند و برتر ہے کہ وہ کسی ایسے فرد کا عمل یا اس کی نماز قبول کرے ، جس کے جسم پر حرام کی قمیص ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجنوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18102
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3561)»
حدیث نمبر: 18103
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا خَرَجَ الْخَارِجُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، وَنَادَى : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَلَالٌ ، وَرَاحِلَتُكَ حَلَالٌ ، وَحَجُّكَ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَا لَبَّيْكَ وَلَا سَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَرَامٌ ، وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی حج کرنے کے لیے نکلتا ہے اور اس کی رقم پاکیزہ ( یعنی حلال ) ہو ، تو جب وہ اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے اور پکار کر یہ کہتا ہے : میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے : تمہاری حاضری قبول ہوئی ، تمہیں شہادت نصیب ہوئی ، کیونکہ تمہارا زاد سفر حلال ہے ، تمہاری سواری حلال ہے ، تمہارا حج نیکی والا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور جب کوئی شخص ناجائز آمدن کے ذریعے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں لگام میں رکھتا ہے اور بلند آواز میں پکار کر کہتا ہے : میں حاضر ہوں ، تو آسمان سے منادی یہ کہتا ہے : نہ تمہاری حاضری قبول ہے نہ تمہیں سعادتمندی نصیب ہوئی ، تمہارا زاد سفر حرام ہے ، تمہارا خرچ حرام ہے اور تمہارا حج نیکی والا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18104
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قَالُوا : وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " غَشْمُهُ ، وَظُلْمُهُ ، وَلَا اكْتَسَبَ عَبْدٌ مَالًا حَرَامًا فَيَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يُنْفِقُهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَدَعُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ . إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، وَالْخَبِيثُ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ ، وَمَنِ اكْتَسَبَ مَالًا مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ ، فَوَضَعَهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ، فَذَاكَ الدَّاءُ الْعُضَالُ ، وَمَنِ اكْتَسَبَ مَالًا فَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَمِثْلُ ذَلِكَ مِثْلُ الْغَيْثِ يَنْزِلُ " . وَذَكَرَ كَلِمَةً ذَهَبَتْ عَنِّي . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالی دنیا اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور ( اُسے بھی دیتا ہے ) جسے وہ پسند نہیں کرتا ، لیکن وہ دین صرف اُسے دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے خدا کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو اور بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک اس کا پڑوسی اس کی زیادتی سے محفوظ نہ ہو ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کی زیادتی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا زیادتی کرنا اور ظلم کرنا ، اگر بندہ حرام طور پر مال کما کر اسے صدقہ کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا اور اگر وہ اس میں سے خرچ کرے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ اس مال کو اپنے پیچھے چھوڑ جائے تو وہ جہنم تک جانے کے لیے اس کا زاد سفر ہو گا ، بے شک اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے بلکہ وہ برائی کو اچھائی کے ذریعے مٹاتا ہے ، خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹاتی ہے ، اگر کوئی شخص مال ناجائز طور پر کماتا ہے اور اسے ناحق طور پر خرچ کرتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ بیماری ہے اور جو شخص مال جائز طریقے سے کماتا ہے اور اسے صحیح طور پر خرچ کرتا ہے تو اس کی مثال بارش کی مانند ہے جو نازل ہوتی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے ایک کلمہ ذکر کیا تھا ، جو مجھے یاد نہیں رہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البرا فى المسلم (3562)»
حدیث نمبر: 18105
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ ، وَفِيهِ دِرْهَمٌ مِنْ حَرَامٍ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ " . قَالَ : ثُمَّ أَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : صَمْتًا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ هَاشِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَهَاشِمٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جو شخص دس درہم کے عوض میں کوئی کپڑا خریدے اور ان میں سے ایک درہم حرام مال میں سے ہو تو وہ کپڑا جب تک اس کے جسم پر رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے اپنی دو انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کیں اور فرمایا : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے ہاشم کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے اور ہاشم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5732)»
حدیث نمبر: 18106
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، فَأَعْتَقَ مِنْهُ ، وَوَصَلَ مِنْهُ رَحِمَهُ ، كَانَ ذَلِكَ إِصْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص حرام طور پر مال کما کر اس کے ذریعے غلام آزاد کرے یا اس کے ذریعے صلہ رحمی کرے تو یہ گناہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف