مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ . باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، دنیا کا بے حیثیت ہونا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ ، أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ " . فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِيَ مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ نے ایک اذان دینے والے کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، مؤذن نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے یا تو چرواہا پاؤ گے یا یہ کوئی ایسا فرد ہو گا جو گھر سے دور ہو ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نشیبی علاقے کی طرف اُترے تو آپ نے ایک مردار بکری پائی جس کو پھینک دیا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ؟ دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ ہے حیثیت ہے جتنی یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔