مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ . باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، دنیا کا بے حیثیت ہونا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا ، قَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک خارش زدہ مردار بکری کے پاس سے ہوا ، جس کے مالکان نے اسے نکال دیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔