حدیث نمبر: 18068
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدِمْنَةِ قَوْمٍ فِيهَا سَخْلَةٌ مَيِّتَةٌ فَقَالَ : " مَا لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَةٌ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ كَانَ لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَةٌ مَا نَبَذُوهَا . فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا ، فَلَا أَلْفِيَنَّهَا أَهْلَكَتْ أَحَدًا مِنْكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کچرے کے پاس سے ہوا ، جہاں ایک مردار بکری موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے مالکان کو اس کی ضرورت نہیں ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر اس کے مالکان کو اس کی ضرورت ہوتی تو انہوں نے اسے پھینکنا نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے ، جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے اور میں اس ( یعنی دنیا ) کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں ، کہ اُس نے تم میں سے کسی کو ہلاکت کا شکار کر دیا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3690)»