حدیث نمبر: 18065
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا ، جس کے مالکان نے اسے پھینک دیا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ یعنی بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18066
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا ، قَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک خارش زدہ مردار بکری کے پاس سے ہوا ، جس کے مالکان نے اسے نکال دیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18067
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ ، أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ " . فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِيَ مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ نے ایک اذان دینے والے کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، مؤذن نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے یا تو چرواہا پاؤ گے یا یہ کوئی ایسا فرد ہو گا جو گھر سے دور ہو ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نشیبی علاقے کی طرف اُترے تو آپ نے ایک مردار بکری پائی جس کو پھینک دیا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ؟ دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ ہے حیثیت ہے جتنی یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18068
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدِمْنَةِ قَوْمٍ فِيهَا سَخْلَةٌ مَيِّتَةٌ فَقَالَ : " مَا لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَةٌ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ كَانَ لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَةٌ مَا نَبَذُوهَا . فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا ، فَلَا أَلْفِيَنَّهَا أَهْلَكَتْ أَحَدًا مِنْكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کچرے کے پاس سے ہوا ، جہاں ایک مردار بکری موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے مالکان کو اس کی ضرورت نہیں ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر اس کے مالکان کو اس کی ضرورت ہوتی تو انہوں نے اسے پھینکنا نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے ، جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے اور میں اس ( یعنی دنیا ) کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں ، کہ اُس نے تم میں سے کسی کو ہلاکت کا شکار کر دیا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18069
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ : " لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے ، جتنی یہ ( یعنی بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18070
وَعَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِسَخْلَةٍ أَتَى عَلَيْهَا : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنِ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت تھی ؟ اسی لئے انہوں نے اسے پھینک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( یعنی بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے جب انہوں نے اسے پھینک دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن یحیی بن زمام علاف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن یحیی بن زمام علاف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18071
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ مَنْزِلِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَخَذَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَمَرَّ بِفِنَاءِ قَوْمٍ وَسَخْلَةٌ مَيِّتَةٌ مَطْرُوحَةٌ بِفِنَائِهِمْ ، فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " تَرَوْنَ هَذِهِ السَّخْلَةَ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا إِذْ طَرَحُوهَا ؟ " . فَقَالُوا : نَعَمْ . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا إِذْ طَرَحُوهَا " . هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے ، آپ مدینہ منورہ کے ایک راستے سے گزر رہے تھے ، آپ کا گزر کسی کے گھر کے باہر والے حصے کے پاس سے ہوا تو وہاں ان لوگوں نے اپنی ایک مردار بکری باہر پھینکی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس کی طرف دیکھنے لگے ، پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو ، یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، جبھی انہوں نے اس کو پھینک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، جب انہوں نے اسے پھینک دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18072
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا ، وَلَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ لَمْ يُعْطِهَا إِلَّا لِأَوْلِيَائِهِ وَأَحْبَابِهِ مِنْ خَلْقِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بے شک دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، اگر اللہ تعالی کے نزدیک دنیا کی حیثیت رائی کے دانے کے وزن کے برابر ہوتی تو اللہ تعالی نے دنیا اپنی مخلوق میں سے صرف اپنے اولیاء اور اپنے محبوب بندوں کو ہی دینی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18073
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا أَعْطَى كَافِرًا مِنْهَا شَيْئًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اس نے دنیا میں سے کافر کو کوئی بھی چیز نہیں دینی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔