مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ . باب: آدمی ، اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " . فَقَالَ : لَا . وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ : فَوَثَبَ الشَّيْخُ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعَوْهُ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . وَصَبَّ عَلَى بَوْلِهِ مَاءً . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . فَقَطْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَمْعَانُ الْمَالِكِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھا ، اس نے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے نماز روزے کی شکل میں اس کے لئے کوئی زیادہ تیاری نہیں کی ہے ، البتہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو تم اُس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص اُٹھ کر گیا اور مسجد ( کے کونے میں ) پیشاب کرنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے کرنے دو ! ہو سکتا ہے یہ اہل جنت میں سے ہو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر اس کے پیشاب پر پانی بہا دیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : “” “” صحیح “” “” میں اس روایت میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سمعان مالکی ہے اور وہ مجہول ہے ، امام ابوزرعہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔