حدیث نمبر: 17931
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى رَجُلًا أَسْوَدَ مَيِّتًا ، قَدْ رَمَوْا بِهِ فِي الطَّرِيقِ ، فَسَأَلَ بَعْضَ مَنْ ثَمَّ عَنْهُ ! فَقَالَ : " مَمْلُوكُ مَنْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : مَمْلُوكٌ لِآلِ فُلَانٍ ، فَقَالَ : " أَكُنْتُمْ تَرَوْنَهُ يُصَلِّي ؟ " . قَالُوا : كُنَّا نَرَاهُ أَحْيَانًا يُصَلِّي ، وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي ، فَقَالَ : " قُومُوا فَاغْسِلُوهُ ، وَكَفِّنُوهُ " . فَقَامُوا فَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ " . فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْنَاكَ لَمَّا كَبَّرْتَ تَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ " . فَلِمَ قُلْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ أَنْ تَحُولَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مِنْ كَثْرَةِ مَا صَلَّوْا عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مدینہ منورہ کی کسی گلی سے ہوا ، وہاں آپ نے ایک سیاہ فام شخص کی لاش دیکھی جسے راستے میں ڈال دیا گیا تھا ، آپ نے دریافت کیا : اس کا تعلق کن لوگوں سے ہے ؟ پھر آپ نے دریافت کیا : یہ کن کا غلام ہے ؟ لوگوں نے بتایا : آل فلاں کا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم بعض اوقات اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے اور بعض اوقات نہیں بھی دیکھتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو ! اُسے غسل دو ! اُسے کفن دو ! وہ لوگ اُٹھے انہوں نے اسے غسل دیا انہوں نے اسے کفن دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، جب آپ نے تکبیر کہی ، تو آپ نے کہا: سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی ، تو آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو سنا کہ جب آپ نے تکبیر کہی ، تو آپ نے فرمایا : سبحان الله ! سبحان اللہ ! آپ نے سبحان اللہ ! سبحان اللہ کیوں کہا: ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی نماز جنازہ میں اتنے زیادہ فرشتے شریک ہوئے کہ قریب تھا کہ وہ میرے اور اس کے درمیان آ جاتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17931
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔